پاکستان میں کپاس کی اوسط پیداوار آسٹریلیا کے مقابلے میں 288 فیصد ،چین کے مقابلے میں 200 فیصد کم حاصل ہوتی ہے،شہزاد علی ملک

پاکستان میں کپاس کی اوسط پیداوار آسٹریلیا کے مقابلہ میں 288 فیصد جبکہ چین کے مقابلہ میں 200 فیصد کم حاصل ہوتی ہے۔

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں کپاس کی اوسط پیداوار آسٹریلیا کے مقابلہ میں 288 فیصد جبکہ چین کے مقابلہ میں 200 فیصد کم حاصل ہوتی ہے۔

دوسری جانب ملک میں روئی کی فی ہیکٹر پیداور آسٹریلیا اور چین کی فی ہیکٹر پیداوار کے مقابلہ میں بالترتیب 208.58 فیصد اور 189.51 فیصد کم حاصل ہورہی ہے۔ کپاس کی مقامی پیداوار میں اضافہ کے لئے زیادہ پیداوار کے حامل اور بیماریوں کے خلاف بھرپور مزاحمت رکھنے والے بیچوں کی مقامی تیاری کے ساتھ ساتھ زیادہ پیداوار کے حامل تصدیق شدہ بیجوں کی مختلف اقسام کی درآمدات میں آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔گارڈ ایگری کلچرل ریسرچ اینڈ سروسز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شہزاد علی ملک نے کہا کہ پاکستان میں کپاس کا شعبہ سکڑ رہا ہے کیونکہ کپاس کی قومی پیداوار 40 تا 50 من فی ایکڑ کے مقابلہ میں 14 تا 16 من فی ایکڑ تک کم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے کاشتکار طبقہ زیادہ منافع کی حامل چاول اور گنا کی فصل کی کاشت کو ترجیح دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اہداف کے تعین کے باوجود کپاس کے نئے بیجوں کی منظوری کے حوالہ سے کم از کم پیداوار کا ہدف 25 من مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے جننگ انڈسٹری بھی متاثر ہو رہی ہے اور تقریباً 150 جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ شہزاد علی ملک نے کہا کہ ہمارے ملک کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کی برآمدات کا حصہ تقریباً 55 تا 60 فیصد ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی خام مال کی ضروریات کی تکمیل اور روئی کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی زرمبادلہ کی بچت اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے کپاس کی مقامی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے۔ اس حوالہ سے نہ صرف اندرون ملک نئے اور بہتر بیجوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے بلکہ پاکستان کے موسم سے مفافقت کے حامل زیادہ پیداوار دینے اور بیماریوں کے خلاف اچھی مزاحمت رکھنے والے بیچوں کی درآمد میں حائل مشکلات کا خاتمہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہزاد علی ملک نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار 40 تا 50 من تک پہنچ چکی تھی جو اب سکڑ کر 14 تا 16 من فی ایکڑ تک کم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آسٹریلیا اور چین کے مقابلہ میں کپاس کی فی ہیکڑ 288 فیصد اور 200 فیصد کم پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 کے پیداوار کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں کپاس کی فی ہیکڑ اوسط پیداوار 1.7 ٹن رہی تھی جبکہ آسٹریلیا میں 6.6 ٹن اور چین میں 5.1 ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ اسی طرح آسٹریلیا اور چین کے مقابلہ میں پاکستان میں روئی کی فی ہیکڑ پیداورا بھی بالترتیب 208.58 فیصد اور 189.51 فیصد کم حاصل ہوتی ہے ۔

شہزاد علی ملک نے کہا کہ پاکستان میں روئی کی فی ہیکڑ 734 کلو گرام پیداوار حاصل ہوئی جبکہ آسٹریلیا میں روئی کی پیداوار 2265 کلو گرام اور چین میں 2125 کلو گرام روئی کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ شہزاد علی ملک نے کہا کہ کپاس کے شعبہ کے تحفظ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی خام مال کی ضروریات کی تکمیل اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے۔