سعودی عرب میں چینی کے زیادہ استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، پبلک ہیلتھ اتھارٹی

سعودی عرب کی پبلک ہیلتھ اتھارٹی ’’وقایہ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں چینی کا استعمال ایسی سطح تک بڑھ گیا ہے جو توجہ طلب ہے۔

ریاض۔10ستمبر (اے پی پی):سعودی عرب کی پبلک ہیلتھ اتھارٹی ’’وقایہ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں چینی کا استعمال ایسی سطح تک بڑھ گیا ہے جو توجہ طلب ہے۔

یہ استعمال خصوصاً ان کھانوں اور مشروبات کے ذریعے کیا جاتا ہے جن میں اضافی شکر شامل کی جاتی ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق پبلک ہیلتھ اتھارٹی نے گزشتہ روز بیان میں واضح کیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کا مطلب چینی سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اس کی مقدار کو محدود کرنا اور روزمرہ خوراک کے حوالے سے بہتر انتخاب کرنا ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ چینی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور غیر صحت بخش غذائی عادات کے پھیلائو کے ساتھ ان سے وابستہ خطرے کے عوامل، جن میں وزن میں اضافہ، موٹاپا، دانتوں کی خرابی اور ٹائپ ٹو ذیابیطس شامل ہیں، وہ اہم عوامل ہیں جنہوں نے’’آپ کی صحت، آپ کا انتخاب‘‘کے عنوان سے مہم شروع کرنے کی ضرورت کو تقویت دی۔

یہ مہم وزیرِ صحت کی حمایت سے پبلک ہیلتھ اتھارٹی ’’وقایہ‘‘ کی قیادت میں اور متعلقہ اداروں کی شراکت سے شروع کی گئی ہے جس کا مقصد قومی سطح پر بنیادی احتیاطی تدابیر کو فروغ دینا اور معاشرے کے افراد کو زیادہ صحت مند غذائی انتخاب کرنے کے قابل بنانا ہے۔ ’’وقایہ‘‘ نے توجہ دلائی کہ اضافی شکر کا ضرورت سے زیادہ استعمال غیر متعدی بیماریوں سے وابستہ خطرے کے عوامل میں سے ایک ہے۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ اس کے استعمال میں کمی کا آغاز ان غذائی فیصلوں سے ہوتا ہے جو ہر فرد روزانہ کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اتھارٹی نے بتایا کہ ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ بعض ایسی غذائی مصنوعات میں بھی اضافی شکر موجود ہوتی ہے جو بظاہر ذائقے میں میٹھی محسوس نہیں ہوتیں اس لیے شکر کے ذرائع سے آگاہی، غذائی لیبل پڑھنا اور خریداری سے قبل مختلف مصنوعات کا موازنہ کرنا انتہائی اہم ہے۔

اسی تناظر میں’’آپ کی صحت، آپ کا انتخاب‘‘ مہم کا محور غذائی آگاہی کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔ اس کے ذریعے معاشرے کے افراد کو اضافی شکر کے ذرائع کی شناخت، زیادہ شکر والی غذائوں اور مشروبات کے استعمال میں کمی اور کم شکر والے زیادہ متوازن متبادل منتخب کرنے میں مدد دی جا رہی ہے۔ استعمال کی مقدار کے حوالے سے ’’وقایہ‘‘ نے وضاحت کی کہ عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او ) کی سفارش کے مطابق فری شوگر کا استعمال روزانہ حاصل ہونے والی مجموعی توانائی کے 10 فیصد سے کم ہونا چاہیے جبکہ اس مقدار کو 5 فیصد سے بھی کم کر دینے سے صحت کے مزید فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اتھارٹی نے واضح کیا کہ مقصد خوراک سے چینی کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ایک تدریجی طریقہ کار اپنانا ہے، جس کے تحت چینی کے استعمال میں کمی لائی جائے، غذائی مصنوعات میں شامل اجزا کو سمجھا جائے، ان کے لیبل پڑھے جائیں اور ایسے متبادل منتخب کیے جائیں جن میں چینی کی مقدار کم ہو۔ مہم کا پیغام اس تصور پر مبنی ہے کہ روزانہ خوراک کے حوالے سے کیا جانے والا ہر انتخاب، چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، طویل مدت میں انسان کی صحت پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

اس مہم کا مقصد صرف صحت کے خطرات سے آگاہی تک محدود رہنے کی بجائے اس آگاہی کو ایسے عملی رویے میں تبدیل کرنا ہے جسے روزمرہ زندگی میں اپنایا اور برقرار رکھا جا سکے۔ ’’آپ کی صحت، آپ کا انتخاب‘‘ مہم معاشرے کے مختلف طبقات کو ہدف بناتی ہے، تاہم خاندان اور بچوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے آسان، قابلِ اعتماد اور آگاہی پر مبنی مواد پیش کیا جا رہا ہے، جو غذائیت سے متعلق تصورات کو روزمرہ زندگی میں قابلِ عمل عادات میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔