پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت اپنانے کی اصولی منظوری، زرعی جدت اور پیداوار بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت

اکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) مکئی کی کاشت کے حوالے سے پالیسی سطح پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، کابینہ کی متعلقہ کمیٹی نے ملک میں جی ایم مکئی کی کاشت اپنانے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) مکئی کی کاشت کے حوالے سے پالیسی سطح پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، کابینہ کی متعلقہ کمیٹی نے ملک میں جی ایم مکئی کی کاشت اپنانے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل(ایس آ ئی ایف سی)کے مطابق یہ پیش رفت ایس آئی ایف سی اور گرین پاکستان انیشیٹو کے تعاون سے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، معیاری بیجوں اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔جی ایم مکئی جدید بائیوٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ بیج ہے، جو بعض کیڑوں، بیماریوں اور موسمی دبائو کے خلاف فصل کی مزاحمت بہتر بنانے میں مدد فراہم کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار اور کسانوں کی آمدن میں اضافے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری کوششوں کے بعدبیج کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں جی ایم مکئی کی کاشت کے لیے اصولی منظوری حاصل ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خزانہ کے ساتھ ایس آئی ایف سی کے گرین پاکستان انیشیٹو کے چیف ایگزیکٹو نے بھی شرکت کی۔مونسانٹو، بائر، کارگل، سِنجینٹا اور کورٹِیوا سمیت بیج کی عالمی کمپنیاں کئی دہائیوں سے پاکستان کی بیج کی صنعت میں سرگرم رہی ہیں۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹس کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیاں ہائبرڈ بیجوں کے ذریعے پاکستان میں زرعی جدت اور نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔جی ایم مکئی کی منظوری سے پاکستان میں بیج کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، زرعی پیداوار میں اضافے، فصلوں کو کیڑوں اور موسمیاتی دبائو سے بہتر تحفظ دینے اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مقابلے میں زرعی شعبے کی استعداد بڑھانے کے امکانات روشن ہوں گے۔
سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل