پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سی فوڈ برآمدات 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں

پاکستان کی بلیو اکانومی کے شعبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملک کی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں پہلی بار 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):پاکستان کی بلیو اکانومی کے شعبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ملک کی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں پہلی بار 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

وزارتِ بحری امور کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستانی سی فوڈ برآمدات میں 38 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سی فوڈ برآمدات مالی سال 2023-24 میں 406 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 568 ملین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئیں۔اعداد و شمار کے مطابق فروزن فش پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی سمندری خوراک رہی، جس سے 105 ملین ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل ہوا، جبکہ فروزن اسکویڈ، کٹل فش، فش میل، جھینگے اور کیکڑے بھی اہم برآمدی مصنوعات میں شامل رہے۔

پاکستانی سی فوڈ مصنوعات چین، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔ وزارتِ بحری امور کے مطابق برآمدی معیار میں بہتری، فوڈ سیفٹی کے تقاضوں پر توجہ اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی نے برآمدات میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔وزارت کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے 2007 میں عائد پابندی کے بعد پاکستانی سی فوڈ مصنوعات ایک بار پھر یورپی مارکیٹ میں اپنا اعتماد بحال کر رہی ہیں، جو ملکی سمندری خوراک کی صنعت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویلیو ایڈڈ سی فوڈ مصنوعات، جدید پروسیسنگ، کولڈ چین اور برآمدی معیار پر مزید توجہ دے کر پاکستان اس شعبے کی برآمدات کو مستقبل میں 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سی فوڈ برآمدات میں مسلسل اضافہ پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع، زرمبادلہ کے حصول اور معاشی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔