قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا ذیلی کمیٹی کی شفارش پر فیصلہ ،پاکستان ہاکی فیڈریشن کے آئندہ انتخابات 3 رکنی الیکشن کمیشن منعقد کرائے گا جس میں پی ایس بی ، آئی ایچ ایف اور پی ایچ ایف کے نمائند ے شامل ہوں گے

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے ذیلی کمیٹی کی شفارش پر فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے آئندہ انتخابات 3 رکنی الیکشن کمیشن منعقد کرائے گا جس میں پی ایس بی ، آئی ایچ ایف اور پی ایچ ایف کے نمائند ے شامل ہوں گے، ضلعی سطح پر ہاکی کلبز کی پڑتال کے لئے پی ایس بی ، صوبائی سپورٹس …

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے ذیلی کمیٹی کی شفارش پر فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے آئندہ انتخابات 3 رکنی الیکشن کمیشن منعقد کرائے گا جس میں پی ایس بی ، آئی ایچ ایف اور پی ایچ ایف کے نمائند ے شامل ہوں گے، ضلعی سطح پر ہاکی کلبز کی پڑتال کے لئے پی ایس بی ، صوبائی سپورٹس بورڈ اور ایسوسی ایشن کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کرے گی ،نیشنل سپورٹس پالیسی 2005 اور عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں کھیلوں کی فیڈریشنز کے الیکشن کرانا پاکستان سپورٹس بورڈکی صوابید ہے ۔

بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی کی عدم حاضری پر سینئر رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد کی زیر صدارت وزارت بین الصوبائی رابطہ میں منعقد ہوا جس میں انجم عقیل خان، خواجہ اظہار الحسن ، سعد وسیم ،حاجی رسول بخش چانڈیو ، سیدہ شہلا رضا ، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ محمد یاسر پیرزادہ ، سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد اور وزارت آئی پی سی کے حکام شریک تھے ۔

ڈائریکٹر جنر ل پاکستان سپورٹس بورڈ محمد یاسر پیرزادہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سب کمیٹی کی سفارشات پر پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو دو ماہ میں الیکشن کےانعقاد کے لئے خط لکھا گیا جس پر پی ایچ ایف کے سیکرٹری جنرل رانا مجاہد کی جانب سے بھجوائے گئے جواب میں کہا گیا کہ پی ایچ ایف اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت کلبوں کی جانچ پڑتال اور انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے۔ اسی سلسلے میں پی ایچ ایف کانگرس کا ساتواں اجلاس نومبر 2025 کے پہلے ہفتے میں طلب کیا جا رہا ہے جس میں آئندہ مدت 2026-2030 کے لیے ڈسٹرکٹ، صوبائی و قومی سطح پر انتخابات اور کلبوں کی جانچ پڑتال کے لیے حتمی تاریخ مقرر کی جائے گی، ایک چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی عمل میں لایا جائے گا تاکہ یہ تمام عمل شفاف اور منصفانہ طریقے سے مکمل ہو سکیں ۔

اس پر ڈی جی پی ایس بی کا کہنا تھا کہ نیشنل سپورٹس پالیسی 2005 اور عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں کھیلوں کی فیڈریشنز کے الیکشن کرانا پاکستان سپورٹس بورڈکی صوابید ہے ،پی ایچ ایف اپنے طور پر انہی کلبز کی فہرست کے ساتھ جو بھی الیکشن کرائے گا اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کہا جارہا ہے کہ پی ایچ ایف آزاد ہے اور کسی قسم کا احتساب نہیں ہوسکتا ایسا کیسے ممکن ہے ، چین اور بھارت جہاں کھیلوں کی سب سے زیادہ سرگرمیاں اور میڈلز ہیں وہاں پر کھیلوں کے قوانین یکسر تبدیل کر دیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود اب بھی کھیلوں کی فیڈریشن چل رہی ہے ، ہم بھی کھیلوں کی فیڈریشن کی آزادی اور خود مختاری پر یقین رکھتے ہیں لیکن حکومت پاکستان کی جانب سے جو فنڈز دیے گئے ہیں ان کا حساب بھی لینا ، شفاف انتخابا ت کرانا پی ایس بی کا مینڈیٹ ہے ۔

ایم این اے انجم عقیل خان نے پی ایس بی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جیسے باقی کھیلوں کی فیڈریشنز کے الیکشن ہوئے ویسے ہاکی فیڈریشن کے ہوتے ہیں تو اس میں کوئی بری بات نہیں ۔ ایم این اے شہلا رضا نے کہا کہ ماضی میں ایک صدر کے ہوتے ہوئے نئے صدر کی نامزدگی کی گئی، بوگس ہاکی کلبز بنائے گئے ،الیکشن کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کلبز کی سکروٹنی ہو اور نئے کلبز کی رجسٹریشن کھولی جائے ۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کےسیکرٹری جنرل رانا مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم قائمہ کمیٹی کی ہدایات اور سب کمیٹی کے سفارشات پر عمل درآمد کے لئے تیار ہیں ، آئی ایچ ایف اور آئی او اے کے کچھ اصول ہیں انھیں بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے ، ہماری اس مدت کے دوران پاکستان 18 ویں سے 13 ویں نمبر پر آگیا ہے ۔ انہوں نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ 7 نومبر کی کانگریس میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا ، ان الیکشنز کے لئے الیکشن کمیشن کی تشکیل پی ایس بی کے ساتھ مل کر جلد مکمل کر لی جائے گی ۔ ایم این اے حاجی رسول بخش چانڈیو نے کہا کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اس کے امور میں شفافیت وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

مزید خبریں