اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے پالیسی ضوابط اور 2005 کے ڈسٹری بیوشن پرفارمنس اسٹینڈرڈز رولز کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر تفصیلی بحث کے لیے آئندہ اجلاس میں پاور ڈویژن …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی بجلی کمپنیوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی مذمت، نیپرا قوانین کی خلاف ورزی قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے پالیسی ضوابط اور 2005 کے ڈسٹری بیوشن پرفارمنس اسٹینڈرڈز رولز کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر تفصیلی بحث کے لیے آئندہ اجلاس میں پاور ڈویژن کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کی صدارت رکن قومی اسمبلی ملک ابرار احمد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کی۔اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ تقسیم کار کمپنیاں اے ٹی اینڈ سی (Aggregate Technical & Commercial) لاسز کی پالیسی کے تحت پاور ڈویژن کی ہدایات پر لوڈشیڈنگ کر رہی ہیں، جسے نیپرا نے کبھی تسلیم یا منظور نہیں کیا۔
کمیٹی نے اس پالیسی کو ریگولیٹر کے مینڈیٹ میں مداخلت قرار دیا۔کمیٹی کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اراکین نے گھریلو علاقوں میں ایل پی جی کی غیر قانونی فروخت اور ناقص سلنڈرز کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی۔ کمیٹی نے عوامی آگاہی کے لیے میڈیا مہم چلانے اور اوگرا و سوئی گیس کمپنیوں کے ساتھ خصوصی اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ اوور بلنگ اور لائن لاسز جیسے مسائل پر غور کیا جا سکے۔اجلاس میں سروسز ٹریبونلز ترمیمی بل 2025 پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔
کمیٹی نے قرار دیا کہ سرکاری ملازمین کو اپیل کے لیے 90 دن سے کم کر کے 35 دن کا وقت دینا نہ صرف ٹریبونل پر بوجھ ڈالے گا بلکہ محکموں کو بھی شفاف فیصلے کے لیے درکار وقت سے محروم کر دے گا، اس لیے بل کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے بینوولنٹ اور گروپ انشورنس فنڈز مینجمنٹ کو ہدایت کی کہ دونوں فنڈز پر ایکچوریل اسٹڈی 90 دن میں مکمل کی جائے تاکہ آئندہ اس پر قانون سازی ممکن ہو سکے۔ کمیٹی اراکین کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کو وفات کے بعد ہی نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ پر مالی فوائد دیے جانے چاہئیں۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب، نُزہت صادق، فرح ناز اکبر، سید رفیع اللہ اور سمیت کابینہ ڈویژن، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔








