اسلام آباد ۔ 22 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ قومی انسداد پولیو خصوصی مہم کے دوران 99 فیصد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف حاصل کر چکے ہیں، اس مہم میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 65 ہزار پولیو ورکرز نے حصہ لیا، ہمیں پولیو وائرس کے خاتمے میں چیلنجوں کا سامنا ہے، اس لئے پولیو …
قومی انسداد پولیو خصوصی مہم کے دوران 99 فیصد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف حاصل کر چکے ہیں،معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 دسمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ قومی انسداد پولیو خصوصی مہم کے دوران 99 فیصد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف حاصل کر چکے ہیں، اس مہم میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 65 ہزار پولیو ورکرز نے حصہ لیا، ہمیں پولیو وائرس کے خاتمے میں چیلنجوں کا سامنا ہے، اس لئے پولیو کے خاتمے کو ایک اجتماعی ذمہ داری کے طور پر اجاگر کیا اور اس بار مہم تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے اس بات کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے مہم کی کامیابی میں بھرپور کردار ادا کیا جن علاقوں میں وائرس زیادہ ہے وہاں سے وائرس کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی پر کام کا آغاز کرچکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کامیاب پولیو مہم کے اختتام پر اپنے بیان میں کیا۔ اس موقع پر پولیو پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ مہم کے دوران ہم نے اپنے پولیو ورکرز کا حوصلہ بڑھایا، والدین نے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچوں کو قطرے پلائے اور پولیو ورکرز کو اپنے دروازے پر خوش آمدید کہا جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ پولیو کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو موثر حکمت عملی کے تحت شکست کا سامنا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت نے کہا کہ ملک بھرسے اس سال 111 پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اس مہم کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ خصوصی مہم کے اختتام پر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دور افتادہ اضلاع سے اعداد و شمار آنا باقی ہیں تاہم اب تک موصول شدہ اعداد و شمار کے مطابق 99 فیصد بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں جبکہ کراچی، کوئٹہ، خیبر، پشین اور قلعہ عبداللہ میں (آج) پیر اور (کل) منگل کو بھی پولیو سے بچاﺅ کے قطروں سے رہ جانے والے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ بیان کے مطابق اس بار پولیو مہم کا آغاز وزیر اعظم عمران خان نے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا کر کیا تھا جو پولیو کے خلاف قومی یکجہتی کی بڑی علامت ہے اسی طرح تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ اور تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماو¿ں نے بڑھ چڑھ کر مہم کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیو مہم کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پولیو ورکرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیو ورکرز ہمارے اصل ہیرو ہیں، والدین ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اس موذی مرض کے خاتمے کے لئے تمام مکتبہ فکر اپنا کردار ادا کریں۔ بیان کے مطابق مہم کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی قابل ستائش رہا جن کے تعاون سے مطلوبہ ہدف حاصل ہوا، سکیورٹی سے متعلقہ رونما ہونے والے چند واقعات کو قومی اور عالمی میڈیا میں غلطی سے پولیو مہم سے جوڑاگیا، قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر میڈیا سے امید رکھتی ہے کہ ذمہ دار صحافت کا مظاہرہ کر تے ہوئے مستقبل میں اس طرح کی رپورٹنگ سے اجتناب کریں گے جس سے پولیو ورکرز اور مہم کو خطرہ ہو اور دشواری کا سامنا کرتے ہوئے مطلوبہ ہدف کے حصول میں رکاوٹ بنے۔ پولیو پروگرام والدین کی سہولت اور پولیو کے قطروں سے رہ جانے والے بچوں سے متعلق معلومات کے حصول کے لئے پہلے ہی صحت محافظ ہیلپ لائن کا آغاز کرچکے ہیں والدین ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کرکے پولیو قطروں سے رہ جانے والے بچوں کی تفصیلات سے آگاہ کرسکتے ہیں تاکہ جلد از جلد ان کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا سکیں۔ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا میں دو ممالک ہیں جہاں پر پولیو کیسز سامنے آرہے ہیں، عالمی برادری پولیو کے خاتمے کے لئے تعاون کررہی ہے اور مشترکہ کوششوں سے بہت جلد پولیو پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔







