قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 60واں اجلاس، جبری گمشدگیوں، عدالتی اصلاحات اور زیر التوا مقدمات میں کمی کے لیے اہم فیصلے

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 60واں اجلاس، جبری گمشدگیوں، عدالتی اصلاحات اور زیر التوا مقدمات میں کمی کے لیے اہم فیصلے

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی (این جے پی ایم سی) کا 60واں اجلاس جمعرات کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا جس میں مختلف عدالتی و انتظامی امور، جبری گمشدگیوں کے مقدمات، زیر التوا مقدمات کے خاتمے اور عدالتی اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں چیف جسٹس صاحبان لاہور، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج نے شرکت کی جبکہ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف اور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات کے لیے ایک علیحدہ کمیشن قائم کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) منظور احمد ملک اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا شامل ہوں گی۔

کمیٹی نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کمیشن کے قواعد و ضوابط آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے زیر التوا اور ترجیحی نوعیت کے مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو سراہا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ یکم ستمبر 2025 سے 31 مئی 2026 تک ملک بھر کی ضلعی عدالتوں نے مجموعی طور پر 13 لاکھ 19 ہزار 390 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں سب سے زیادہ 10 لاکھ 65 ہزار 375 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے ماتحت عدالتوں نے ایک لاکھ 23 ہزار 51، سندھ میں 87 ہزار 219، اسلام آباد میں 27 ہزار 465 اور بلوچستان میں 16 ہزار 280 مقدمات کے فیصلے کیے۔کمیٹی نے ماڈل سول اور کریمنل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان عدالتوں نے زیر التوا مقدمات میں کمی اور بروقت انصاف کی فراہمی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

16 مارچ سے 31 مئی 2026 تک ماڈل عدالتوں نے 8 ہزار 526 سول اور 16 ہزار 566 فوجداری مقدمات کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں جھوٹی اور غیر سنجیدہ مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے تیار کردہ قانونی اور پالیسی فریم ورک کو بھی سراہا گیا اور لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکرٹریٹ کو ہدایت کی گئی کہ اسے مزید غور کے لیے تمام ہائی کورٹس کو بھجوایا جائے۔بینکاری مقدمات کے فوری اور کم خرچ فیصلوں کے لیے کمیٹی نے مختلف انتظامی اصلاحات کی منظوری دی، جن میں ضرورت کے مطابق اضافی بینکنگ کورٹس کا قیام، ججوں کی خصوصی تربیت، مقدمات کے مقررہ مدت میں فیصلے اور غیر ضروری تاخیر کی روک تھام شامل ہیں۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ضلعی عدلیہ میں تین ہفتہ وار تعطیلات کی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ عدالتیں سابقہ شیڈول کے مطابق دوبارہ چھ روزہ ورکنگ ویک اختیار کر سکتی ہیں، تاہم توانائی کے مؤثر استعمال اور وسائل کی بچت کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

اجلاس میں نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنے، جوڈیشل افسران کے لیے خصوصی ڈپلومہ کورسز کے اجرا، ضلعی عدلیہ میں خالی آسامیوں کو پر کرنے، بنچ اور بار کے روابط مضبوط بنانے اور بایومیٹرک تصدیق کے مؤثر نظام کو دیگر ہائی کورٹس تک توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ’’نیشنل کانفرنس آن جوڈیشل ویلبیئنگ‘‘ 25 جولائی 2026 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد کی جائے گی، جس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے جوڈیشل افسران کو تعریفی اسناد دی جائیں گی۔اجلاس کے اختتام پر تمام ہائی کورٹس، وزارت قانون و انصاف اور لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے نظام انصاف کی بہتری، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا گیا۔

مزید خبریں