قومی پیغامِ امن کمیٹی نے ’’پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق‘‘ جاری کردیا، محرم الحرام کے دوران امن، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے ’’پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق‘‘ جاری کردیا، محرم الحرام کے دوران امن، بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام اور مشائخ عظام نے جمعرات کو قومی پیغامِ امن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ’’پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق‘‘ کی متفقہ توثیق کرتے ہوئے محرم الحرام کے دوران امن، بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ اعلان اسلام آباد میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اجلاس کے بعد منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء، مشائخ اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔شرکاء نے فرقہ وارانہ تشدد، انتہاپسندی، دہشت گردی، نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی عدم برداشت کی ہر شکل کے خلاف متحد رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام اتحاد، صبر، قربانی اور پرامن بقائے باہمی کی علامت ہونا چاہیے۔اس موقع پر وزیراعظم کے معاونِ خصوصی اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے دیگر ممتاز علماء کے ہمراہ میڈیا کو بتایا کہ ’’پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق‘‘ تمام مکاتبِ فکر اور مختلف مذہبی برادریوں کے نمائندوں سے وسیع مشاورت کے بعد مرتب کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر میں محرم الحرام کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تمام علماء، مشائخ، ذاکرین، خطباء اور مذہبی مقررین ضابطۂ اخلاق کی مکمل پابندی کریں گے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کسی فرد یا گروہ کی حمایت نہیں کی جائے گی۔طاہر اشرفی نے کہا کہ بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ، فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ اور انتہاپسندی و نفرت پر مبنی بیانیوں کا رد قومی پیغامِ امن کمیٹی کے بنیادی اہداف ہیں۔علماء نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح تصادم اور طاقت کے ذریعے عقائد مسلط کرنے کی کوششیں اسلامی تعلیمات کے منافی، فساد فی الارض اور قومی و دینی جرائم ہیں۔ شرکاء نے شدت پسند نظریات اور تشدد پر مبنی بیانیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر دہشت گردی اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف متحد ہیں۔ضابطۂ اخلاق میں انبیائے کرام، صحابۂ کرام، خلفائے راشدین، امہات المؤمنین اور اہلِ بیت کے احترام و تقدس پر زور دیا گیا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ ان مقدس شخصیات کی توہین، تنقیص یا تکفیر میں ملوث عناصر سے تمام مکاتبِ فکر لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور ایسے افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔علماء نے واضح کیا کہ اگرچہ دینی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ درست اور غلط عقائد کی وضاحت کریں، تاہم کسی فرد کو کافر قرار دینے کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے اور اس کا استعمال اسلامی اصولوں اور ملکی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔کمیٹی نے آئینِ پاکستان کے تحت غیر مسلم شہریوں کی مذہبی آزادیوں اور حقوق کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ تمام اقلیتوں کو اپنی عبادات اور مذہبی تہوار منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور کسی فرد یا گروہ کو ان کے آئینی حقوق سلب کرنے کا اختیار نہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اسلامی ریاست میں پُرامن طور پر رہنے والے غیر مسلم شہریوں کے جان و مال اور حقوق کا تحفظ ضروری ہے جبکہ کسی بھی خلاف ورزی کا فیصلہ ملکی عدالتی اور قانونی نظام کے تحت ہونا چاہیے۔کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کو محرم اور صفر کے دوران مذہبی اجتماعات، مجالس، کانفرنسوں اور یادگاری تقریبات کے انعقاد اور شرکت کا آئینی و قانونی حق حاصل ہے، بشرطیکہ عوامی نظم و ضبط، نجی زندگی اور عبادت گاہوں کے تقدس کا احترام کیا جائے۔علماء نے عوام کو ملک دشمن اور انتشار پھیلانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے تمام مکاتبِ فکر کے پیروکاروں، اہلِ بیت کے محبین اور صحابۂ کرام کے عقیدت مندوں سے اتحاد و یکجہتی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔انہوں نے علماء، خطباء اور ذاکرین پر زور دیا کہ وہ اتحاد و اخوت کو فروغ دیں، اشتعال انگیز اور تقسیم پیدا کرنے والی زبان سے گریز کریں اور مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ضابطۂ اخلاق میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ہر عالم کو اپنے مسلک کے عقائد اور تعلیمات بیان کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم ایسی گفتگو میں دیگر مکاتبِ فکر کی شخصیات، عقائد اور مذہبی شعائر کا احترام ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔کمیٹی نے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا سے اپیل کی کہ محرم الحرام سے قبل، دوران اور بعد میں ’’پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق‘‘ کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے اور امن، رواداری اور قومی یکجہتی کے پیغامات عام کیے جائیں۔اجلاس کے شرکاء نے متعلقہ سرکاری اداروں سے مطالبہ کیا کہ نفرت، تشدد یا فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والی تقاریر، اشاعتوں، نشریات اور سوشل میڈیا مواد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔اجلاس میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ارکان، وزیراعظم کے معاون برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان شبیر احمد عثمانی سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء اور نمائندگان شریک ہوئے۔شرکاء نے ’’پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق‘‘ کے فروغ اور مؤثر نفاذ کے لیے ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کرتے ہوئے محرم الحرام کے دوران امن و استحکام کے قیام کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کا عہد کیا۔کمیٹی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ضابطۂ اخلاق پر مؤثر عملدرآمد سے بین المسالک ہم آہنگی مزید مضبوط ہوگی، پیغامِ پاکستان کا امن و اعتدال کا بیانیہ فروغ پائے گا اور ایک پُرامن، متحد اور روادار پاکستان کے قیام میں مدد ملے گی۔شرکاء نے کہاکہ محرم الحرام قربانی، صبر اور اتحاد کا پیغام دیتا ہے، اور اس مقدس مہینے میں امن و ہم آہنگی کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔

مزید خبریں