اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) ڈاکٹر حیدر عباس نے کہا ہے کہ جدید ڈیجیٹل دور میں سائبر سکیورٹی محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ عوام اور پورے معاشرے سے جڑا ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ملکی اداروں کے درمیان باہمی اعتماد، خودمختار ٹیکنالوجی کا فروغ اور ہنر مند افرادی قوت کا تحفظ ناگزیر ہے۔ایک …
قومی ڈیجیٹل سرحدوں کا تحفظ اور خود انحصاری ناگزیرہے، ڈی جی نیشنل سرٹ ڈاکٹر حیدر عباس

مزید خبریں
اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) ڈاکٹر حیدر عباس نے کہا ہے کہ جدید ڈیجیٹل دور میں سائبر سکیورٹی محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ عوام اور پورے معاشرے سے جڑا ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ملکی اداروں کے درمیان باہمی اعتماد، خودمختار ٹیکنالوجی کا فروغ اور ہنر مند افرادی قوت کا تحفظ ناگزیر ہے۔ایک خصوصی گفتگو کے دوران ڈاکٹر حیدر عباس نے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل سرحدوں کا دفاع تنہا کوئی ایک ادارہ نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک مربوط اور ہم آہنگ نظام درکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے منظور کردہ ’سرٹ رولز 2023‘ کے تحت تین سطحی فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے، جس میں قومی سطح پر نیشنل سرٹ، دوسرے درجے پر سیکٹرل و صوبائی سرٹس اور تیسرے درجے پر تنظیمی سرٹس شامل ہیں، تاکہ سائبر حملوں کی بروقت روک تھام، سراغ رسانی اور فوری جوابی کارروائی کو ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل سرٹ نے ملکی اداروں کے لیے آڈیٹ ایبل کنٹرولز پر مشتمل پاکستان کا پہلا انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک متعارف کرایا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان نے نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے بین الاقوامی تنظیموں ’اے پی سرٹ‘ اور ’فرسٹ‘کی باقاعدہ رکنیت حاصل کر لی ہے۔نیشنل سرٹ کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کو صرف سکیورٹی آپریشن سینٹرز تک محدود سمجھنا ایک غلط فہمی ہے۔
اصل چیلنج اداروں کے مابین ڈیٹا کے تبادلے میں عدم اعتماد اور ملکی ہنر مند افرادی قوت کا دوسرے ممالک کے پرکشش پیکیجز کی وجہ سے بیرونِ ملک چلے جانا ہے، جس کے لیے مقامی سطح پر مناسب ترغیبات اور نظام بنانا ضروری ہے۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور عام صارفین کے تحفظ پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حیدر عباس نے خبردار کیا کہ شہریوں کے ہاتھوں میں موجود موبائل فون اور گیجٹس یا تو ان کے بہترین دوست ہیں یا پھر سب سے خطرناک دشمن؛ اگر ان کا مؤثر اور ذمہ دارانہ انتظام نہ کیا جائے تو یہ ذاتی زندگی، خاندان اور اداروں کی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بالخصوص اے آئی اور سائبر سکیورٹی میں عملی صلاحیتیں پیدا کریں۔ڈی جی نیشنل سرٹ نے بتایا کہ ملک میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے والا سائبر تھریٹ انٹیلیجنس سسٹم مقامی طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک مستحکم، محفوظ اور باوقار ڈیجیٹل پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی ٹیکنالوجیز خود تیار کی جائیں اور اسکولوں، جامعات اور انفرادی سطح پر سائبر آگاہی کا کلچر عام کیا جائے۔








