سیالکوٹ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):جمہوریہ ترکیہ کے قونصل جنرل مہمت ایمن شمشییک نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کا دورہ کیا اور ترکیہ کے یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس کی جانب سے ترکیہ کلچرل پرفارمنس اور آرٹ نمائش کا انعقاد کیا …
قونصل جنرل جمہوریہ ترکیہ کا جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کا دورہ

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 27 اکتوبر (اے پی پی):جمہوریہ ترکیہ کے قونصل جنرل مہمت ایمن شمشییک نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کا دورہ کیا اور ترکیہ کے یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد یونیورسٹی کے شعبہ فائن آرٹس کی جانب سے ترکیہ کلچرل پرفارمنس اور آرٹ نمائش کا انعقاد کیا گیا۔
قونصل جنرل نے طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں اور ثقافتی مظاہروں کو سراہا۔ تقریب میں طالبات نے کلامِ اقبال پر پرفارمنس پیش کی۔ قونصل جنرل نے یونیورسٹی کے احاطے میں یادگاری پودا بھی لگایا اور تقریب کے اختتام پر جمہوریہ ترکیہ کے یومِ آزادی کا خصوصی کیک کاٹا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے ساتھ تعلیم، تحقیق اور ترکیہ زبان کے کورس کے آغاز کے لیے جلد عملی اقدامات کریں گے۔
انہوں نے طالبات کی کھیلوں میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور ان کے لیے مستقبل میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وائس چانسلر جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر نے اپنے خطاب میں پاکستان اور ترکیہ کی لازوال دوستی اور علامہ اقبال اور مولانا رومی کے فکری و روحانی تعلق کو اقبال کی شاعری کی روشنی میں اجاگر کیا۔
انہوں نے قونصل جنرل سے درخواست کی کہ جی سی یونیورسٹی لاہور کی طرز پر ترکش لینگوئج سنٹر کے قیام میں تعاون کیا جائے تاکہ طالبات ترکیہ زبان اور ثقافت سے براہِ راست مستفید ہو سکیں۔ مزید برآں وائس چانسلر نے انٹرن شپ، اسٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرامز، اور تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔
آخر میں انہوں نے اس کامیاب تقریب کے انعقاد پر ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر شگفتہ فردوس، چیئرپرسن شعبہ فائن آرٹس محترم رِضا رحمان اور پوری انتظامی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور تقریب کو ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔








