قیمتی پتھروں کی برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں و جواہرات کے پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات میں تعطل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر معینہ مدت کے ساتھ لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں و جواہرات کے پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات میں تعطل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر معینہ مدت کے ساتھ لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے کی ترقی اور ان کی برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس بدھ کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی پتھروں و جواہرات کے شعبے کی ترقی کے حوالے سے اقدامات ترجیح ہیں، اس حوالے سے کسی قسم کی سست روی قبول نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی اور ان کی تراش خراش سے ویلیو ایڈیشن کا ایک پورا ایکو سسٹم تیار کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر معیاری طریقے سے کان کنی اور قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ پاکستان کو اللہ رب العزت نے قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے حکم دیا کہ قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے برآمدات میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں، خطے کے دیگر ممالک کی طرح قیمتی پتھروں و جواہرات کیلئے برانڈ پاکستان پر کام کریں، ویلیو ایڈیشن کیلئے سینٹرز آف ایکسیلینس کے جلد قیام کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے پائلٹ پراجیکٹس اور قیمتی پتھروں کی ماڈل مائنز کی تعمیر کیلئے تمام تر رکاوٹیں دور کرنے اور منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو قیمتی پتھروں کی کھوج، تراش خراش اور ان کی ویلیو ایڈیشن کے بعد برآمدات کیلئے تیاری کے پائلٹ پراجیکٹ پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حسین آباد سکردو میں سینٹر آف ایکسیلیس منصوبے کیلئے 4.8 کنال زمین منتقل ہو چکی، منصوبے کے لئے فنڈز دستیاب ہیں اور تعمیر جلد شروع کر دی جائے گی ۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں منصوبے کیلئے زمین کی نشاندہی ہو چکی ہے، اسلام آباد میں سینٹر آف ایکسیلینس کی تعمیر تک اسے متبادل جگہ پر مکمل طور پر آپریشنل کر دیا جائیگا۔ اجلاس کو شعبے کی ترقی کیلئے پالیسی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں و جواہرات کے حوالے سے نشاندہی شدہ علاقوں کی جیولاجیکل میپنگ مکمل ہو چکی جس میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 8 نئے بلاکس کی قیمتی پتھروں کی دریافت کے حوالے سے مزید کام کیلئے نشاندہی کی گئی ہے۔ اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق اس سال شعبے کی ترقی کے لئے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ کی مد میں ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے 7 شہروں کے 10 بینکوں کی 80 شاخوں میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے آئندہ ہفتے قیمتی پتھروں و جواہرات کیلئے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام اور شعبے کی ترقی کے حوالے سے اقدامات کا جامع لائحہ عمل مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، احسن اقبال، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

مزید خبریں