لاک ڈائون ختم کرنے میں جلدی کی گئی تو کورونا وائرس دوبارہ پھیلنے کا خطرہ ہے، عالمی ادارہ صحت

جنیوا ۔ 7 مئی (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لاک ڈائون میں نرمی کرنے والے ممالک انتہائی احتیاط کے ساتھ کام لیں ورنہ نئے کیسز میں بہت تیزی سے اضافے کا خطرہ ابھی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینوم گیبریسس نے جنیوا میں ورچوئل اجلاس میں بتایا کہ لاک …

جنیوا ۔ 7 مئی (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لاک ڈائون میں نرمی کرنے والے ممالک انتہائی احتیاط کے ساتھ کام لیں ورنہ نئے کیسز میں بہت تیزی سے اضافے کا خطرہ ابھی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینوم گیبریسس نے جنیوا میں ورچوئل اجلاس میں بتایا کہ لاک ڈائون ختم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر دنیا کے ممالک کو کورونا وائرس کے پھیلائو کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹریکنگ سسٹم اور قرنطینہ کی فراہمی جیسے مناسب اقدامات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر لاک ڈائون میں مرحلہ وار نرمی یا انتہائی احتیاط سے کام نہ لیا تو دوبارہ لاک ڈائون کا خطرہ درپیش ہو سکتا ہے اور اگر لاک ڈائون اقدامات بہت جلد ختم کیے گئے تو وائرس دوبارہ پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وائرس ختم ہونے پر عالمی ادارہ صحت کے اقدامات کا تعین کریں گے لیکن میرا خیال ہے کہ اس وقت کورونا وباء کے پھیلائو اور اس سے نمٹنے کے مقصدپر توجہ دینی چاہیے اور اس کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے قانون کے مطابق جب کوئی رکن ریاست کچھ رپورٹ کرتی ہے تو ہم اسے ویسا ہی آگے شیئر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم چیز یہ کہ ہم نے کورونا وائرس کی ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقلی سمیت 14 جنوری سے پہلے، درمیان اور اس کے بعد کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی دنیا بھر کے ممالک کی رہنمائی کی جس سے انہیں اس سے نمٹنے کی تیاری میں مدد ملی اور یہی مکمل سچ ہے۔