لاہور لٹریری فیسٹیول میں جون ایلیا کی شاعری اور فکر پر خصوصی سیشن کا انعقاد

لاہور۔8فروری (اے پی پی):لاہور لٹریری فیسٹیول کے تحت الحمرا میں ’’جون ایلیا کی شاعری: زمین سے جڑی ایک بے تکلف فکر‘‘ کے موضوع پر سیشن منعقد ہوا، جس میں جون ایلیا کی شاعری کو محض غم یا شخصی کرب کے اظہار کے بجائے ایک زندہ، سوال اٹھانے والی اور سماج سے براہِ راست مکالمہ کرنے والی فکری روایت کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔اس سیشن میں نامور ادیب و …

لاہور۔8فروری (اے پی پی):لاہور لٹریری فیسٹیول کے تحت الحمرا میں ’’جون ایلیا کی شاعری: زمین سے جڑی ایک بے تکلف فکر‘‘ کے موضوع پر سیشن منعقد ہوا، جس میں جون ایلیا کی شاعری کو محض غم یا شخصی کرب کے اظہار کے بجائے ایک زندہ، سوال اٹھانے والی اور سماج سے براہِ راست مکالمہ کرنے والی فکری روایت کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔اس سیشن میں نامور ادیب و نقاد ناصر عباس نیر، ممتاز شاعرہ فاطمہ حسن اور شائستہ حسن نے بطور پینلسٹس شرکت کی، جب کہ نظامت معروف ادیبہ صغری صدف نے کی۔

سیشن کے دوران تمام مقررین نے جون ایلیا کی شاعری کے منتخب اشعار کے واضح حوالے دیتے ہوئے گفتگو کی اور ان کی شاعری کی مختلف فکری، سماجی اور انسانی پرتیں سامعین کے سامنے رکھیں۔ اس حوالہ جاتی گفتگو نے جون ایلیا کے شعری رویے کو ایک مربوط فکری تناظر میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ناصر عباس نیر نے اپنے تنقیدی پس منظر کی روشنی میں کہا کہ جون ایلیا کی شاعری کسی پیچیدہ یا گنجلک فلسفے کی مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ ایک بے لاگ، غیر مبہم فکری عمل ہے جو سماجی جمود، فکری منافقت اور مسلمہ سچائیوں پر سوال اٹھاتا ہے۔

ان کے مطابق جون ایلیا جدید انسان کی ذہنی کیفیت اور تاریخی بے سمتی کو نہایت سادہ مگر بے رحم سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔فاطمہ حسن، جو بذاتِ خود اردو شاعری میں ایک مضبوط اور مستند حوالہ سمجھی جاتی ہیں، نے کہا کہ جون ایلیا کی شاعری میں دکھ یا بے چینی کسی رومانوی کیفیت کا نام نہیں بلکہ انسانی رشتوں، سماجی رویوں اور داخلی سچائیوں کی صاف اور دیانت دار تصویر ہے۔ ان کے مطابق یہی صداقت جون ایلیا کو ایک عالمی سطح پر قابلِ مطالعہ شاعر بناتی ہے۔شائستہ حسن نے اپنے طویل ادبی تجربے اور تحقیقی کام کے حوالے سے کہا کہ جون ایلیا کی شاعری ماضی اور حال کے سماجی تجربات کو جوڑتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جون ایلیا کی فکر کسی خاص زمانے یا جغرافیے تک محدود نہیں بلکہ انسانی صورتِ حال سے جڑی ہوئی ہے، اسی لیے ان کی شاعری آج کے قاری سے بھی اسی شدت سے مکالمہ کرتی ہے۔سیشن کی نظامت کرتے ہوئے صغری صدف نے گفتگو کو ایک وسیع فکری فریم فراہم کیا اور اس بات پر توجہ دلائی کہ جون ایلیا کی شاعری ہمیں زمین سے جڑے رہنے، خود فریبی سے نکلنے اور سماجی سچائیوں کا سامنا کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

ان کے سوالات نے گفتگو کو محض تاثرات سے آگے لے جا کر ایک سنجیدہ فکری مکالمے میں تبدیل کیا۔سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کا ایک بھرپور مرحلہ بھی ہوا، جس میں سامعین نے جون ایلیا کی شاعری کے سماجی مضمرات، فکری تضادات اور عصری معنویت پر سوالات کیے۔ مقررین کے مدلل جوابات نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ جون ایلیا کی شاعری ایک سادہ مگر عالمی سطح پر بامعنی فکری روایت کا حصہ ہے۔یہ نشست لاہور لٹریری فیسٹیول کی اس روایت کا تسلسل تھی جس کے تحت ادب کو محض متن نہیں بلکہ ایک زندہ سماجی اور فکری تجربے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔