لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز اور ٹیرف کے خلاف دائر آئینی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ۔
لاہور ہائیکورٹ، بجلی بلوں میں کیپسٹی چارجز اور ٹیرف کیخلاف دائر آئینی درخواست مسترد

مزید خبریں
لاہور۔9جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز اور ٹیرف کے خلاف دائر آئینی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ۔ جسٹس احمد ندیم ارشد نے اشبا کامران کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں پالیسی سازی عدلیہ نہیں بلکہ حکومت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ وہ اقتصادی، مالیاتی اور ریگولیٹری پالیسیوں پر اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کر سکتی۔ محض کسی پالیسی سے اختلاف کی بنیاد پر آئینی درخواست دائر کرنا قابلِ قبول جواز نہیں بنتا۔
فیصلے کے مطابق عدالت ریگولیٹر، آڈیٹر یا ماہرِ معاشیات کا کردار ادا نہیں کر سکتی، جبکہ کیپسٹی چارجز اور ٹیرف سے متعلق معاملات پالیسی سازوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ درخواست گزار کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہی۔جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہا کہ آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتی مداخلت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کوئی اقدام غیر قانونی یا غیر آئینی ہو۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کی واپسی کا حکم دینا عدالتی دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور مفادِ عامہ کے نام پر عدالت سے پالیسی سازی نہیں کروائی جا سکتی۔








