لاہور ہائیکورٹ ،20 افراد کے قتل مقدمے میں چار مجرموں کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار

لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا میں دربار کی گدی نشینی کے تنازع پر20 افراد کے قتل کے مقدمے میں4مجرموں کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے

لاہور۔22جولائی (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا میں دربار کی گدی نشینی کے تنازع پر20 افراد کے قتل کے مقدمے میں4مجرموں کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے25 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،حکومت کی جانب سے پراسیکیوٹر راحیلہ شاہد پیش ہوئیں۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ مضبوط عینی، طبی، ڈی این اے اور فرانزک شواہد کی موجودگی میں مجرموں کا محض انکار سزا کو کالعدم قرار دینے کے لیے کافی نہیں جبکہ ایسے سفاکانہ اجتماعی قتل میں سخت ترین سزا ہی انصاف کے تقاضے پورے کر سکتی ہے،عدالت نے قرار دیا کہ دربار پر پیش آنے والا واقعہ انتہائی ہولناک اور غیر معمولی نوعیت کا تھا، تاہم جرم کی ہولناکی انصاف کی آنکھوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی اور عدالت نے صرف شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے،فیصلے کے مطابق مقدمے کے فوری اندراج نے جھوٹے مقدمے کے امکان کو ختم کر دیا جبکہ پولیس کی بروقت کارروائی نے استغاثہ کے موقف کو مزید مضبوط بنایا،عدالت نے قرار دیا کہ زخمی گواہ کا بیان غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور اسے بلاوجہ مسترد نہیں کیا جا سکتا،عدالت نے کہا کہ عینی گواہوں کے بیانات طبی شواہد سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں

جبکہ ڈی این اے اور فرانزک شواہد نے ملزمان کو براہِ راست جرم سے جوڑ دیا، فیصلے میں کہا گیا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولین کے جسموں میں ایتھانول موجود تھا،جس سے ثابت ہوا کہ انہیں نشہ آور مشروبات پلا کر بے ہوش کیا گیا،عدالت کے مطابق قتلِ عام کی بنیادی وجہ دربار کی گدی نشینی کا تنازع تھا،جو خوفناک اجتماعی قتل کی صورت اختیار کر گیا،مجرموں کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کرنے کا کوئی محرک بھی ثابت نہیں ہو سکا جبکہ خون آلود ہتھیاروں سمیت موقع پر گرفتاری نے استغاثہ کے مقدمے کو مزید تقویت دی،فیصلے میں کہا گیا کہ مذہبی مقام پر20 بے گناہ افراد کو انتہائی سفاکانہ انداز میں قتل کیا گیا،مقتولین کو برہنہ کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس سے عوام میں خوف،دہشت اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہوئی،عدالت نے قرار دیا کہ اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق مکمل طور پر درست تھا،عدالت نے مزید قرار دیا کہ جرم کی منصوبہ بندی، بے رحمی اور سفاکی غیر معمولی نوعیت کی تھی اور ایسے مقدمے میں کسی بھی قسم کی رعایت انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگی لہذا چاروں مجرموں کی 20،20 بار سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے،واضح رہے کہ اس واقعے کا مقدمہ سرگودھا کے تھانہ صدر میں 2 اپریل2017 کو درج کیا گیا تھا جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے3 دسمبر 2019 کو چاروں مجرموں کو 20،20 بار سزائے موت سنائی تھی،جس کے خلاف دائر اپیلیں لاہور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی ہیں۔

 

مزید خبریں