حکومت کا بنیادی مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، اصلاحات پر عملدرآمد میں تاخیر قابل قبول نہیں۔ وفاقی وزیرقیصر احمد شیخ کا کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کے اجلاس سے خطاب
حکومت کا بنیادی مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، اصلاحات پر عملدرآمد میں تاخیر قابل قبول نہیں۔ وفاقی وزیرقیصر احمد شیخ کا کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کے اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کا بنیادی مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، اصلاحات پر عملدرآمد میں تاخیر قابل قبول نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات (سی سی او آر آر) کے 12ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کا بنیادی ایجنڈا کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ ریگولیٹری اصلاحات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔
سرمایہ کاری بورڈ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ کل 558 اصلاحات میں سے 76 پر عملدرآمد مکمل ہو چکا ہے، 232 اصلاحات پر کام جاری ہے جبکہ 243 اصلاحات مقررہ مدت گزرنے کے باوجود التواء کا شکار ہیں۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ سی سی او آر آر کے فیصلوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضابطہ کاری میں نرمی ناگزیر ہے اور تمام اصلاحات باہمی مشاورت سے طے کی گئی ہیں، اس لیے ان پر عملدرآمد میں تاخیر قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب توجہ رکاوٹوں کے حل اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔
اجلاس میں معاون خصوصی ہارون اختر خان نے اصلاحات پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلوں پر عمل نہ ہو تو اس کمیٹی کا مقصد متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ تمام التواء کی شکار اصلاحات کے لیے زیادہ سے زیادہ 30 دن کی مہلت دی جائے جس کے بعد متعلقہ اداروں کو وزیراعظم کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے ریگیمیٹر ڈیش بورڈ سے متعلق دریافت کیا اور ہدایت دی کہ وزراء کے لیے ایک ایگزیکٹو ڈیش بورڈ تیار کیا جائے تاکہ پیش رفت کی موثر نگرانی ممکن ہو سکے۔اجلاس میں مختلف وزارتوں اور اداروں کی زیر التواء اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ بیشتر اصلاحات طریقہ کار کی سادہ کاری اور ڈیجیٹائزیشن سے متعلق ہیں۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے حوالے سے بتایا گیا کہ 19 اصلاحات میں سے صرف ایک پر عملدرآمد ہوا جبکہ 18 تاحال التواء کا شکار ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے سے اس تاخیر پر وضاحت طلب کی گئی۔
کمیٹی نے ہدایت دی کہ سی ڈی اے فوری طور پر ایک فوکل پرسن نامزد کرے اور جامع رپورٹ پیش کرے۔ اسی طرح میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) نے آگاہ کیا کہ اس کی زیر التواء اصلاحات پر پیش رفت ہوئی ہے۔پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے اپنی تین اصلاحات کے حوالے سے موقف پیش کیا اور ٹوبیکو ایکسپورٹ پرمٹ کے خاتمے کی تجویز پر اعتراض کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان نے 2018 میں پروٹوکول ٹو ایلیمینیٹ الیسٹ ٹریڈ اِن ٹوبیکو پراڈکٹس سے الحاق کیا ہے جس کے تحت ٹوبیکو مصنوعات کی برآمد کے لیے لائسنسنگ اور سپلائی چین کنٹرولز لازم ہیں۔ کمیٹی نے ماہرِ ریگولیٹری اصلاحات سکاٹ جیکبز کو ہدایت دی کہ وہ اس معاہدے کا تفصیلی جائزہ لے کر کمیٹی کی رہنمائی کریں۔دیگر اداروں بشمول فوڈ ڈیپارٹمنٹ، آئی سی ٹی انتظامیہ، محکمہ ایکسپلوسِوز، ڈائریکٹوریٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس، اسلام آباد فوڈ اتھارٹی، انڈسٹریز اینڈ منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کی زیر التواء اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی 139 اصلاحات التواء کا شکار ہیں جن میں سے بڑی تعداد کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی (سی سی ایل سی) میں زیر غور ہے۔ معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سی سی ایل سی میں زیر التواء امور کو جلد نمٹایا جائے گا۔ کمیٹی نے اس حوالے سے 30 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کرتے ہوئے عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت دی۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کاروباری اکائونٹ کھولنے کے عمل کو آسان بنانے اور فارن ایکسچینج ٹرانزیکشنز کو ہموار کرنے سے متعلق اصلاحات پر بھی غور کیا گیا۔
کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف ملک میں کاروبار دوست ماحول کے فروغ اور ریگولیٹری اصلاحات کے موثر نفاذ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر تمام وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی گئی کہ اصلاحات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور حکومت کے وژن کے مطابق سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کی سہولت اور اصلاحات کے بروقت نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔








