وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت کا ضلع کرک کا دورہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے بدھ کے روز ضلع کرک کا دورہ کیا۔محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق دورے میں انہوں نے ڈپٹی کمشنر کرک کے دفتر میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے ساتھ امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔

پشاور۔ 22 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے بدھ کے روز ضلع کرک کا دورہ کیا۔محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق دورے میں انہوں نے ڈپٹی کمشنر کرک کے دفتر میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے ساتھ امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کرک، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرک اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔دورے کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کرک نے معاونِ خصوصی کو ضلع میں امن و امان کی موجودہ صورتحال، جرائم کی روک تھام، پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی، دستیاب وسائل، افرادی قوت اور درپیش انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے ضلع انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے امن و امان کے قیام، جرائم کی مؤثر روک تھام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی ہدایات کے مطابق صوبائی حکومت پرامن معاشرے کے قیام اور قانون کی بالادستی کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی خدمات کی فراہمی کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے، شہریوں کے ساتھ رابطے کو مؤثر بنایا جائے اور عوامی شکایات و مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔طارق سعید مروت نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر، سماج دشمن قوتوں اور امن کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ضلع کرک سمیت پورے صوبے میں پائیدار امن، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام، عوامی تحفظ اور مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے متعلقہ اداروں کی استعداد کار میں مزید اضافہ کرے گی۔