بیروت۔24دسمبر (اے پی پی):لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اعلان کیا ہے کہ لبنان شام کے سابق حکام کی گرفتاری کے لیے انٹر پول سے تعاون کرے گا۔ العربیہ کے مطابق نجیب میقاتی کا یہ بیان انٹر پول کی طرف سے شام کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر جمیل حسن کی گرفتاری کے لیے تعاون کی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔ جمیل حسن پر امریکا کی طرف سے …
لبنان شام کے سابق حکام کی گرفتاری کے لیے انٹر پول سے تعاون کرے گا، وزیر اعظم

مزید خبریں
بیروت۔24دسمبر (اے پی پی):لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے اعلان کیا ہے کہ لبنان شام کے سابق حکام کی گرفتاری کے لیے انٹر پول سے تعاون کرے گا۔ العربیہ کے مطابق نجیب میقاتی کا یہ بیان انٹر پول کی طرف سے شام کے ایک سابق انٹیلی جنس افسر جمیل حسن کی گرفتاری کے لیے تعاون کی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔
جمیل حسن پر امریکا کی طرف سے الزام لگایا گیا ہے کہ وہ بشار الاسد حکومت کی طرف سے جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔گزشتہ ہفتے لبنان کو انٹر پول کی طرف سے ایک باضابطہ نوٹس موصول ہوا تھا جس میں انٹر پول نے لبنان کی عدالت و سکیورٹی سے متعلق حکام سے کہا تھا کہ اگر وہ جمیل حسن کو لبنان کی سرزمین پر دیکھیں تو اسے گرفتار کریں۔
یہ بات لبنان کے عدالتی ذرئع نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتائی تھی۔نجیب میقاتی نے بتایا کہ لبنان کی حکومت اس سلسلے میں انٹرپول کے ساتھ بھر پور تعاون کو تیار ہے۔ جمیل حسن شامی ایئر فورس کی انٹیلی جنس سے بطور ڈائریکٹر وابستہ رہا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ جمیل حسن کی لبنان میں موجودگی کی صورت میں اسے گرفتار کر کے انٹر پول کے توسط سے امریکا کے حوالے کیا جائے گا۔خیال رہے کہ امریکا نے 9دسمبر کو 72 سالہ جمیل حسن پر فرد جرم عائد کی ہے کہ وہ شام کی خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم میں ملوث رہا ہے۔
جمیل حسن ان تین شامی عہدے داروں میں سے ایک ہیں جنہیں مئی کے دوران فرانس کی عدالت نے جنگی جرائم کے سلسلے میں مجرم قرار دیا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے لوگوں کو لاپتہ کیا اور فرانس کی شہریت رکھنے والے شہری کے بیٹے کو ہلاک کیا تھا۔








