لیطانی کے جنوب میں ہتھیاروں کی موجودگی چند دنوں میں ختم ہو جائے گی، لبنانی وزیر اعظم

بیروت۔21دسمبر (اے پی پی):لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے میں ہتھیاروں کی موجودگی کو ختم کرنے کا منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور ریاست دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کے لیے تیار ہے۔العربیہ کے مطابق لبنانی وزیراعظم نے میکانزم کمیٹی کے مذاکراتی وفد کے سربراہ سفیر سائمن کرم سے ملاقات کے …

بیروت۔21دسمبر (اے پی پی):لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے میں ہتھیاروں کی موجودگی کو ختم کرنے کا منصوبہ تکمیل کے قریب ہے اور ریاست دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کے لیے تیار ہے۔العربیہ کے مطابق لبنانی وزیراعظم نے میکانزم کمیٹی کے مذاکراتی وفد کے سربراہ سفیر سائمن کرم سے ملاقات کے دوران کہا کہ پہلے مرحلے کی تکمیل میں صرف چند دن باقی ہیں، ریاست اب دوسرے مرحلے یعنی دریائے لیطانی کے شمالی علاقے کی طرف منتقلی کے لیے تیار ہے جو لبنانی فوج کے تیار کردہ منصوبے کے مطابق ہے۔

نواف سلام نے لبنانی فوج کو تمام ضروری مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب میکانزم کمیٹی کا 15 واں اجلاس ناقورہ میں منعقد ہوا۔ لبنان میں امریکی سفارتخانے نے کہا کہ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لبنانی فوج کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا کامیابی کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اجلاس سکیورٹی مذاکرات کا تسلسل ہے جس کا مقصد لبنانی فوج کے ہاتھوں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے۔ یاد رہے کہ نومبر 2024 میں شروع ہونے والے جنگ بندی معاہدے میں حزب اللہ کے لیطانی کے شمال میں انخلا، اسے غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کی واپسی کی شرائط شامل تھیں تاہم اسرائیل اب بھی لبنانی علاقوں میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔