ماحولیاتی تبدیلی کو فوری طور پر قومی صحت ایمرجنسی قرار دیا جائے ، ماہرین ماحولیاتی و صحت عامہ کا مطالبہ

اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):ماحولیاتی اور صحت عامہ کے ماہرین نے حکومتِ سے مطالبہ کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو فوری طور پر قومی صحت ایمرجنسی قرار دیا جائے کیونکہ ملک تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی حساسیت کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ پاکستان کو سائنس پر مبنی جرأت مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے جن میں سولر ریڈی ایشن ماڈیفیکیشن (ایس آر ایم) جیسے …

اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):ماحولیاتی اور صحت عامہ کے ماہرین نے حکومتِ سے مطالبہ کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو فوری طور پر قومی صحت ایمرجنسی قرار دیا جائے کیونکہ ملک تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی حساسیت کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ پاکستان کو سائنس پر مبنی جرأت مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے جن میں سولر ریڈی ایشن ماڈیفیکیشن (ایس آر ایم) جیسے ممکنہ طریقۂ کار پر تحقیق اور پالیسی تیاری بھی شامل ہے تاکہ لاکھوں افراد کی صحت، ماحول اور مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

یہ سفارشات کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (سی یو آئی) میں منعقدہ دو روزہ قومی مشاورتی اجلاس کے اختتام پر سامنے آئیں، جس کا انعقاد 26 اور 27 نومبر کو کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان جیسے انتہائی ماحولیاتی خطرات سے دوچار ملک کے لیے ایس آر ایم کو روایتی ماحولیاتی موافقتی حکمتِ عملیوں کے ساتھ ایک ممکنہ معاون ٹیکنالوجی کے طور پر جانچا گیا۔ یہ مشاورتی اجلاس ڈیلیبریشن آن سولر جیو انجینئرنگ (ڈی ایس جی)، ڈائریکٹوریٹ آف ملیریا کنٹرول اور برطانیہ کے ڈگریز انیشی ایٹو کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں پالیسی سازوں، ماہرِ موسمیات، ملیریا ماہرین اور گورننس اسپیشلسٹس نے شرکت کی۔

شرکاء نے ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی بیماریوں اور غیر معمولی موسمی واقعات کے باعث شدید عوامی صحت بحران کی نشاندہی کی۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ پاکستان کا صحت عامہ کا نظام ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سنبھالنے کے لیے ناکافی ہے، جن میں ملیریا کی بڑھتی ہوئی شرح، شدید گرمی کی لہریں اور دیگر نئی ابھرتی ہوئی بیماریاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ماحول اور صحت کو الگ الگ پالیسی شعبوں کے بجائے مربوط قومی ترجیحات کے طور پر دیکھا جائے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کو ایس آر ایم کے حوالے سے کسی بھی عملی اقدام سے قبل اپنی سائنس، تحقیق اور ریگولیٹری صلاحیت کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم، ذمہ دارانہ تحقیق، عوامی مکالمہ اور پالیسی تیاری ناگزیر ہیں، کیونکہ ایس آر ایم ممکنہ طور پر درجہ حرارت میں کمی لا کر صحت سے متعلق خطرات کو کم کر سکتا ہے۔ ماہرین نے پاکستان کے ماحولیاتی گورننس نظام میں موجود اہم خلا کی بھی نشاندہی کی، جو ایس آر ایم کے سائنسی، اخلاقی اور سماجی پہلوؤں کو نظر انداز کرتا ہے۔

شرکاء نے شفاف عوامی رابطہ کاری، وسیع شعبہ جاتی مشاورت اور جامع پالیسی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی مداخلت عدم مساوات کو بڑھانے کے بجائے کم کرے۔ سی یو آئی کی تحقیقاتی ٹیم جو گلوبل ساؤتھ میں ایس آر ایم ماڈلنگ کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے نے زور دیا کہ پاکستان کو ایسے مربوط پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے جو سائنس، صحت عامہ اور سماجی و حکمرانی سے متعلق امور کو یکجا کرے۔

مشاورتی اجلاس کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ پاکستان کو اپنے ماحول صحت حکمرانی کے نظام پر فوری نظرِ ثانی کرنا ہوگی، ایس آر ایم جیسے ابھرتے ہوئے طریقوں پر تحقیق اور تیاری میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی اور تمام اقدامات کو انصاف پر مبنی، شفاف اور کمیونٹی مرکوز اصولوں پر استوار کرنا ہوگا، تاکہ ماحولیاتی دباؤ کے تحت رہنے والے کروڑوں افراد اور مقامی ماحولیاتی نظام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

 

مزید خبریں