ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی استحکام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں،مشیر وزیراعلی برائے ماحولیات

ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کے تحت مشیر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات پیر مصور خان نے ادارہ برائے تحفظ ماحولیات، خیبر پختونخوا کے دفتر کا دورہ کیا۔محکمہ ماحولیات خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق دورے میں انہیں ادارے کی کارکردگی، اصلاحات، کامیابیوں، …

پشاور۔ 10 جون (اے پی پی):ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کے تحت مشیر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا برائے موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات پیر مصور خان نے ادارہ برائے تحفظ ماحولیات، خیبر پختونخوا کے دفتر کا دورہ کیا۔محکمہ ماحولیات خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق دورے میں انہیں ادارے کی کارکردگی، اصلاحات، کامیابیوں، درپیش چیلنجز اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ ڈائریکٹر ای پی اے خیبر پختونخوا افسر علی شاہ نے پیش کی۔ اس موقع پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا جنید خان، ڈائریکٹر جنرل ای پی اے، خیبر پختونخوا اسد اللہ خان سمیت ادارے کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔بریفنگ کے دوران مشیر وزیرِ اعلیٰ کو بتایا گیا کہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی صوبے میں ماحولیاتی قوانین کے نفاذ، آلودگی کے تدارک، صنعتی اخراج کی نگرانی، ماحولیاتی اثرات کے جائزوں (EIA) کی منظوری اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اجلاس کو ای پی اے کی جانب سے شروع کی گئی متعدد اہم اصلاحات اور جدید اقدامات سے آگاہ کیا گیا، جن میں صنعتی اخراج کی آن لائن نگرانی کے لیے کنٹینیوس ایمیشن مانیٹرنگ سسٹم (CEMS) کا قیام، مرکزی GIS/MIS سیل کا قیام، ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مضامین کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی کاوشیں، صوبائی ماحولیاتی معیار (PEQS) کی تیاری، جدید علاقائی لیبارٹریوں کا قیام اور ماحولیاتی منظوریوں کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایجنسی نے ماحولیاتی قوانین کے نفاذ اور نگرانی کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ ٹریبونل کو بھیجے گئے چار ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں جبکہ 3,989 صنعتی یونٹس کی GIS میپنگ مکمل کی گئی ہے تاکہ نگرانی اور قانون پر عملدرآمد کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ مزید برآں سیمنٹ اور اسٹیل صنعتوں میں آلودگی کنٹرول نظام کی تنصیب اور روایتی اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے جیسے اقدامات کو بھی سراہا گیا۔اجلاس کو موسمیاتی تبدیلی اور عوامی آگاہی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں تعلیمی اداروں میں گرین کلبز کا قیام، صوبائی موسمیاتی تبدیلی پالیسی عملدرآمد کمیٹی کے باقاعدہ اجلاس اور ماحولیاتی منظوریوں کو عوامی رسائی کے لیے آن لائن دستیاب کرنا شامل ہے۔اس موقع پر مشیر وزیرِ اعلیٰ پیر مصور خان نے ای پی اے کی کارکردگی اور افسران کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیشِ نظر ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے ایجنسی کو ہدایت کی کہ ماحولیاتی قوانین کے نفاذ، جدید نگرانی کے نظام، عوامی شعور کی بیداری اور صنعتی شعبے میں ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے اقدامات کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ادارے کو درپیش اہم مسائل، بشمول افرادی قوت کی کمی، پروموشنز، ضلعی سطح پر دفاتر کے قیام، جدید آلات اور لاجسٹک سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔اس موقع پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات جنید خان نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی موافقت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔