ماسٹر ڈگری ہولڈر سے سوئیپر کا کام لینا المیہ، خیبرپختونخوا حکومت متاثرہ شخص کو متبادل ملازمت دے، وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی حیثیت سے ملازم رکھنے کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور ریمارکس دیئے کہ صوبائی حکومت شکایت کنندہ کو کسی دوسری مناسب جگہ ملازمت فراہم کرے۔

اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں ایم اے پاس شخص کو سوئیپر کی حیثیت سے ملازم رکھنے کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور ریمارکس دیئے کہ صوبائی حکومت شکایت کنندہ کو کسی دوسری مناسب جگہ ملازمت فراہم کرے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ کیا اب ایم اے پاس کرنے والا شخص سوئیپر کا کام کرے گا؟انہوں نے کہا کہ اب دس سال بعد اس شخص کو ملازمت سے نکالنا بھی مناسب نہیں ہوگا، اس لیے بہتر ہے کہ صوبائی حکومت اسے کسی دوسری جگہ تعینات کرے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں سوئیپر کی کوئی آسامی خالی نہیں ہے، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا، کیا خیبرپختونخوا اتنا صاف ستھرا ہے کہ سوئیپر کی ضرورت ہی نہیں؟انہوں نے مزید ریمارکس دیئے، صاف ستھرا تو کسی اور صوبے کا سنا تھا۔عدالت نے ایم اے پاس شخص سے سوئیپر کا کام لینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم اے پاس سے سوئیپر کا کام کروانے پر نظام کو شاباش دینی چاہیے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ایم اے پاس شخص کا سوئیپر کی نوکری کرنا ایک المیہ ہے۔سماعت کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے دریافت کیا کہ متعلقہ ملازم سے کیا کام لیا جاتا ہے، جس پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے بتایا کہ اس کی ذمہ داری جھاڑو لگانا اور صفائی کرنا ہے۔اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے، کیا اس کے جھاڑو لگانے پر کسی کو شرم نہیں آتی؟بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کی اپیل خارج کر دی۔