مالی سال 2027 کے دوران مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کاامکان ، مالی سال 2026 کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق 41.5 ارب ڈالر کی ترسیلات زرمتوقع ہیں،گورنرسٹیٹ کی پریس کانفرنس

گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاہے کہ مالی سال 2027 کے دوران مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کاامکان ہے

اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاہے کہ مالی سال 2027 کے دوران مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کاامکان ہے ، مالی سال 2026 کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق 41.5 ارب ڈالر سےزیادہ کی ترسیلات زرمتوقع ہے، پاکستان کے بیرونی شعبے کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران کہی، گورنرسٹیٹ بینک نے مالی سال 27 ۔ 2026 کے تناظر میں ملکی معیشت سے متعلق اہم پیش رفت اور مرکزی بینک کے معاشی جائزے سے تفصیلی طورپر آگاہ کیا۔گورنرسٹیٹ بینک نے کہاہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بتدریج تیزی آ رہی ہے اور اقتصادی نمو سٹیٹ بینک کی توقعات کے مطابق رفتار پکڑ رہی ہے، بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کی اوسط سالانہ شرح نمو 6 فیصد رہی، جبکہ بعض مہینوں میں یہ شرح 10 فیصد تک بھی پہنچ گئی ، صنعتی شعبے کی مضبوط کارکردگی کی بدولت مالی سال 2027 کے دوران مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 2026 کے مجموعی معاشی اشاریے بڑی حد تک اسٹیٹ بینک کی توقعات کے مطابق رہے، اگرچہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث جون 2026 میں مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی، تاہم پورے مالی سال کے دوران اوسط افراطِ زر 7.04 فیصد رہی، جو سٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے ہدف کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی شعبے کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ جاری کھاتوں کا خسارہ، جو مالی سال 2022 میں 17.5 ارب امریکی ڈالر (جی ڈی پی کا 4.7 فیصد) تھا اور جس کے باعث درآمدات اور منافع کی بیرونِ ملک منتقلی پر پابندیاں عائد کرنا پڑی تھیں، مالی سال 2023 میں کم ہو کر 3.3 ارب ڈالر، مالی سال 2024 میں 2.1 ارب ڈالر ، جبکہ مالی سال 2025 میں 2.1 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 0.5 فیصد) کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 2026 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران بھی جاری کھاتہ سرپلس میں رہا اور سٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ پورے مالی سال میں اس کا توازن جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہے گا، جو مرکزی بینک کے مقررہ ہدف کی نچلی حد کے مطابق ہے۔گورنرسٹیٹ بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 2026 کے اختتام پر سٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ایک سال قبل یہ 13 ارب ڈالر تھے ، اس پیش رفت سے زرمبادلہ کی قلت میں نمایاں کمی آئی، بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملی اور بینکوں کی غیر ملکی زرمبادلہ سے متعلق واجبات بھی مالی سال 2023 کے 5.8 ارب ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 2026 کے اختتام پر صرف 95 کروڑ ڈالر رہ گئے۔ گورنر نے مزید کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بنیادی نوعیت کا اضافہ مضبوط بنیادوں پر جاری ہے۔ اگر سال کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں نہ کی جاتیں تو ذخائر تقریباً 23 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جاتے، جو بیرونی مالی رقوم کی مضبوط آمد کی عکاسی کرتا ہے۔جمیل احمدنے کہاکہ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کی بیرونی شعبے سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے اگرچہ مالی سال 2022 سے مجموعی بیرونی قرض تقریباً 100 ارب امریکی ڈالر کی سطح پر برقرار ہے، تاہم زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، یعنی ان میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے حکومت کے بیرونی قرضوں کی ساخت بھی بہتر ہوئی ہے، قلیل مدتی کمرشل قرضوں پر انحصار بتدریج کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ 20 سے 25 سالہ مدت کے کثیرالجہتی رعایتی قرضے حاصل کیے جا رہے ہیں، جس سے قرضوں کی اوسط میعاد میں بہتری آئی ہے۔ گورنرسٹیٹ بینک نے کہاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بدستور ملکی معیشت کے لیے بیرونی مالی معاونت کا اہم ترین ذریعہ ہیں، ترسیلاتِ زر مالی سال 2023 میں 27.3 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مالی سال 2026 کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق یہ 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، جو سٹیٹ بینک کے 41 سے 42 ارب ڈالر کے سابقہ تخمینے کے مطابق ہے ۔ سٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں بھی ترسیلاتِ زر میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ کہ ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کے لیے سکیم میں شریک بینک موجودہ طریقہ کار کے تحت خدمات جاری رکھیں گے اور تمام تشہیری و مارکیٹنگ اخراجات خود برداشت کریں گے، جبکہ صارفین کو ترسیلاتِ زر کی سہولت حسبِ سابق بلا معاوضہ فراہم کی جاتی رہے گی۔انہوں نے کہاکہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس اسکیم کے تحت بھی رقوم کی آمد میں نمایاں بہتری آئی ہے اور حالیہ اصلاحات کے بعد اس سکیم کے ذریعے اوسطاً 30 کروڑ امریکی ڈالر ماہانہ موصول ہو رہے ہیں۔