مانسہرہ،8 اکتوبر کے زلزلے کو 21 سال بیت گئے،بالاکوٹ میں تعمیر نو کے متعدد منصوبے تاحال نامکمل

ملک میں 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کو 21 سال مکمل ہو گئے، تاہم بالاکوٹ سمیت ہزارہ کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے متعدد منصوبے تاحال مکمل نہیں ہوسکے

مانسہرہ۔ 08 اکتوبر (اے پی پی):ملک میں 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کو 21 سال مکمل ہو گئے، تاہم بالاکوٹ سمیت ہزارہ کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے متعدد منصوبے تاحال مکمل نہیں ہوسکے،۔8 اکتوبر کو صبح 8 بج کر 52 منٹ پر آنے والے 7.6 شدت کے زلزلے نے ہزارہ،آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی جس میں 80 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے،بالاکوٹ بھی بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل تھا جہاں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے،ضلع مانسہرہ میں 15,997 افراد جاں بحق،9,903 زخمی ہوئے جبکہ ایک لاکھ سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ مقامی صحافیوں فہیم خان اور سید نعمان شاہ کے مطابق دو دہائیاں گزرنے کے باوجود رہائش،تعلیم،صحت،سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق بعض منصوبے مکمل نہیں ہوسکے

زلزلے کے اثرات آج بھی متاثرہ علاقوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ہزارہ میں تعمیر نو کے لیے 7,053 منصوبے مختص کیے گئے تھے جن میں سے 2023 تک 5,410 مکمل،405 زیر تعمیر جبکہ 781 منصوبے شروع نہیں ہوسکے تھے،زلزلے سے 2,927 سکول و کالج بھی متاثر ہوئے،ریڈ زون سے متاثرین کی منتقلی کے لیے بکریال میں شروع کیا گیا نیو بالاکوٹ سٹی منصوبہ بھی طویل عرصے سے زیر التوا بڑے منصوبوں میں شامل ہے تاہم 2026 میں 110 بستروں پر مشتمل بالاکوٹ ہسپتال کا فعال ہونا علاقے میں طبی سہولیات کی بہتری کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ زیر التوا منصوبوں کی تکمیل تیز کی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ رہائش،معیاری تعلیم،صحت کی بہتر سہولیات اور پائیدار بنیادی ڈھانچہ میسر آسکے۔