مبینہ ’’طیش دلانا‘‘ یا ’’للکار‘‘ کے الزام پر ضمانت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مقدمہ مزید تحقیق کے زمرے میں آتا ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت اگر کسی ملزم کے خلاف صرف مبینہ ’’طیش دلانا‘‘ یا ’’للکار‘‘ کا الزام ہو اور اس کے خلاف نہ کوئی براہِ راست فائرنگ، نہ کوئی مجرمانہ اقدام اور نہ ہی اسلحہ کی برآمدگی ثابت ہو تو ایسا مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت مزید تحقیق کے زمرے میں آتا ہے اور …

اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت اگر کسی ملزم کے خلاف صرف مبینہ ’’طیش دلانا‘‘ یا ’’للکار‘‘ کا الزام ہو اور اس کے خلاف نہ کوئی براہِ راست فائرنگ، نہ کوئی مجرمانہ اقدام اور نہ ہی اسلحہ کی برآمدگی ثابت ہو تو ایسا مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت مزید تحقیق کے زمرے میں آتا ہے اور اس بنیاد پر ضمانت سے انکار کا جواز نہیں بنتا۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق یہ آبزرویشن جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کریمنل پٹیشن نمبر 653 آف 2026 میں جاری حکم میں دی جس میں سندھ ہائیکورٹ، سرکٹ کورٹ میرپورخاص کے 24 فروری 2026 کے ضمانت سے متعلق فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔عدالتی حکم کے مطابق مقدمہ ایف آئی آر نمبر 69/2025 (تھانہ ڈیپلو، ضلع تھرپارکر) سے متعلق ہے، جو 19 نومبر 2025 کو پیش آنے والے ایک مبینہ واقعہ پر درج کیا گیا۔

استغاثہ کے مطابق مدعی کے بھائی محمد رمضان کو ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔مقدمے میں الزام ہے کہ مرکزی ملزم نے موقع پر موجود دیگر افراد کے ہمراہ فائرنگ کے لئے مبینہ طور پر ’’طیش دلانے‘‘ یا اکسانے کا کردار ادا کیا تاہم اصل فائرنگ شریک ملزم پولیس اہلکار کے ذریعے کی گئی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ریکارڈ کے مطابق موجودہ ملزم کے خلاف کوئی براہِ راست فائرنگ، کوئی جسمانی اقدام یا اسلحہ کی برآمدگی ثابت نہیں ہوتی اور اس کا کردار محض مبینہ اکسانے یا ’’طیش دلانے‘‘ تک محدود ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں ملزم کی ذمہ داری کا تعین مکمل ٹرائل اور شواہد کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ایف آئی آر میں 11 روز کی تاخیر ایک اہم پہلو ہے جس کی وضاحت ٹرائل کے دوران ضروری ہوگی تاکہ کسی مشاورت، تاخیر یا بعد ازاں کہانی تراشنے کے امکان کو رد کیا جا سکے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب ملزم کا کردار اصل واردات سے علیحدہ اور غیر مستقیم ہو اور شواہد ابتدائی طور پر مزید تحقیق کے متقاضی ہوں تو ایسے معاملات میں ضمانت کا فائدہ دیا جا سکتا ہے۔عدالت نے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے اسے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں اور ایک ضمانتی مچلکے کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔

 

مزید خبریں