ابوظہبی۔24نومبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات کے 73 فیصد سرمایہ کاروں نے انسانی مشیروں کے بجائے اے آئی کو ترجیح دینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق ایک حالیہ سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار انسانی مالی مشیروں کے بجائے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے پر آمادہ ہیں جبکہ 70.8 فیصد سرمایہ کار اپنے مالی پورٹ فولیو کی نگرانی بھی اے آئی …
متحدہ عرب امارات کے 73 فیصد سرمایہ کار انسانی مشیروں کے بجائے اے آئی کو ترجیح دینے پر آمادہ

مزید خبریں
ابوظہبی۔24نومبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات کے 73 فیصد سرمایہ کاروں نے انسانی مشیروں کے بجائے اے آئی کو ترجیح دینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق ایک حالیہ سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار انسانی مالی مشیروں کے بجائے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے پر آمادہ ہیں جبکہ 70.8 فیصد سرمایہ کار اپنے مالی پورٹ فولیو کی نگرانی بھی اے آئی کے حوالے کرنے پر اعتماد ظاہر کرتے ہیں۔
یہ سروے الفیہ کمپنی کی جانب سے مئی سے جولائی 2025 کے درمیان کرایا گیا جس میں 509 مقامی سرمایہ کاروں کی آرا شامل کی گئیں۔ ان میں مختلف عمر، آمدنی اور سرمایہ کاری کے تجربے والے افراد شامل تھے، جن میں اعلیٰ مالیت والے سرمایہ کار اور عام ریٹیل سرمایہ کار بھی شامل تھے۔سروے کے مطابق اعلیٰ مالیت والے سرمایہ کاروں میں سے صرف 52 فیصد نے اپنی موجودہ مالیاتی خدمات پر اطمینان ظاہر کیا جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں میں یہ شرح محض 37 فیصد رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ڈیجیٹل ویلتھ مینجمنٹ کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے مگر موجودہ پلیٹ فارمز ان کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہیں، تقریباً 40 فیصد سرمایہ کاروں نے موجودہ مالیاتی مصنوعات کو ناکافی قرار دیا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں اب بھی ذاتی نوعیت کے اور ہموار حل کی کمی ہے تاہم سروے میں یہ بھی واضح ہوا کہ ٹیکنالوجی انسانی اعتماد اور رہنمائی کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی اور تقریباً نصف سرمایہ کار اب بھی مالی فیصلوں کے لیے اپنے خاندان پر انحصار کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذاتی تعلقات اور مشورہ اب بھی کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
الفیہ کے سی ای او راجر روحانا نے سروے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ہمیشہ سے تکنیکی ترقی میں سب سے آگے رہا ہے اور یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کے رجحانات بھی ملک کے ترقی پسند وژن سے ہم آہنگ ہیں۔سی ای او کے مطابق سب سے کامیاب حل وہ ہوں گے جہاں اے آئی انسانی مشیروں کی معاونت کرے نہ کہ انہیں مکمل طور پر بدل دے، جب پلیٹ فارمز ٹیکنالوجی کو انسانی تعلقات کے ساتھ مربوط کریں گے تو ان کا استعمال بھی بڑھ جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات ڈیجیٹل ویلتھ مینجمنٹ میں بڑی تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی،اے ڈی جی ایم اور ڈی آئی ایف سی جیسے ریگولیٹری فریم ورک اور مصنوعی ذہانت کی قومی حکمت عملی 2031 جیسے اقدامات ملک کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات کا مرکز بنانے کی جانب لے جا رہے ہیں۔








