محکمہ زراعت پنجاب نے آم کی گدھیڑی کے کنٹرول بارے سفارشات جاری کر دیں

لاہور۔25نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے آم کی گدھیڑی کے کنٹرول بارے سفارشات جاری کر دیں۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق آم کے باغبان نومبر سے اپریل تک چھتری کے نیچے جڑی بوٹیوں کو تلف کر دیں تاکہ گدھیڑی درخت پر نہ چڑھ سکے۔ نومبر میں زمین کوگوڈی کر کے انڈوں کو تلف کیا جائے اور پر میتھرین کا پاوڈر کا دھوڑ دیا جائے۔ دسمبر میں آم کی …

لاہور۔25نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے آم کی گدھیڑی کے کنٹرول بارے سفارشات جاری کر دیں۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق آم کے باغبان نومبر سے اپریل تک چھتری کے نیچے جڑی بوٹیوں کو تلف کر دیں تاکہ گدھیڑی درخت پر نہ چڑھ سکے۔

نومبر میں زمین کوگوڈی کر کے انڈوں کو تلف کیا جائے اور پر میتھرین کا پاوڈر کا دھوڑ دیا جائے۔ دسمبر میں آم کی گدھیٹری کے انڈوں سے بچے نکلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے اس لیے تنے کے گرد گوڈی کر کے پروفینو فاس کا سپرے کریں، تاکہ بچے انڈوں سے نکلتے ہی زہر کے اثر سے مرجائیں اور اس عملکو ہفتے بعد دہرائیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ باغبان نومبر میں تنوں پر30 سینٹی میٹر اونچائی پر مٹی اور توڑی ملاکر لیپ لگائیں تا کہ تنوں کی سطح ہموار ہو جائے،اسکے بعد پھسلن والے پھندے(20 سینٹی میٹر چوڑی پلاسٹک شیٹ)لگائیں اور گدھیڑی کو درخت پر چڑھنے سے روکنے کے لئے اس شیٹ کے درمیان گریس کی ایک تہہ لگا دیں،

شیٹ کے نیچے گدھیڑی اوپر چڑھنے کی کوشش میں اکٹھی ہو جاتی ہے جس کے فوری کیمیائی تدارک کے لئے پر وفینو فاس بحساب300 ملی لیٹر فی100 لیٹر پانی سپرے کریں،اسعمل کو ہر پانچویں دن دہرایا جائے تاکہ اس کیڑے کو پودے کے اوپر جانے سے مکمل طور پر روکا جاسکے۔