فیصل آباد۔ 20 دسمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو گندم کو سست تیلے سے بچانے اور خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کیلئے کینولا،سرسوں کی کم از کم 2 لائنیں فی ایکڑضرور لگانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح جہاں گندم کی فصل کو سست تیلے کے نقصانات سے بچایا جاسکتا ہے وہیں تیلدار اجناس کی پیداوار کے ذریعے خوردنی تیل کی پیداوار بھی …
محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو گندم کو سست تیلے سے بچانے کیلئے کینولا،سرسوں کی کم از کم 2 لائنیں فی ایکڑضرور لگانے کی ہدایت
فیصل آباد۔ 20 دسمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو گندم کو سست تیلے سے بچانے اور خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ کیلئے کینولا،سرسوں کی کم از کم 2 لائنیں فی ایکڑضرور لگانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح جہاں گندم کی فصل کو سست تیلے کے نقصانات سے بچایا جاسکتا ہے وہیں تیلدار اجناس کی پیداوار کے ذریعے خوردنی تیل کی پیداوار بھی بڑھائی جاسکتی ہے جس کی ملکی ضرورت پوری کرنے کیلئے ہمیں سالانہ تین سو ارب روپے تک کا خوردنی تیل در آمد کرنا پڑ رہا ہے۔
محکمہ کے ترجمان نے اے پی پی سے بات چیت کے دوران کہا کہ کاشتکاروں کو گندم کی فصل کو مختلف کیڑے مکوڑوں و بیماریوں سے بچانے کیلئے محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف یا ماہرین زراعت سے مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بارانی علاقوں میں جڑی بوٹیاں گندم کی پیداوار کوزیادہ متاثر کرکے فی ایکڑ 42 فیصد تک پیداوار کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اسلئے ان کا بروقت تدارک اشد ضروری ہے۔








