محکمہ لائیوسٹاک کسانوں کی خوشحالی، دُودھ و گوشت کی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات پرعمل پیراء ہے،ڈائریکٹر

ڈائریکٹر لائیوسٹاک پنجاب ڈاکٹر ساجد اقبال نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں لائیوسٹاک کے شعبے کی ترقی، کسانوں کی خوشحالی اور دودھ و گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے۔

سرگودھا۔ 14 جولائی (اے پی پی):ڈائریکٹر لائیوسٹاک پنجاب ڈاکٹر ساجد اقبال نے کہا کہ صوبہ بھر میں لائیوسٹاک کے شعبے کی ترقی، کسانوں کی خوشحالی اور دودھ و گوشت کی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عمل جاری ہے جن نگرانی وزیر زراعت و لائیوسٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی جبکہ سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ کی سربراہی میں محکمہ لائیوسٹاک جدید سہولیات کی فراہمی، بریڈ امپروومنٹ، ویٹرنری سروسز اور کسان دوست منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل پیرا ہے۔۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریڈیو پاکستان سرگودھا کے پروگرام ’’شاہین سرگودھا‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مویشی پال حضرات، کسانوں اور دیہی آبادی کو محکمہ لائیو سٹاک کی خدمات، جانوروں کی بہتر نگہداشت، جدید بریڈنگ، مصنوعی نسل کشی، حکومتی منصوبوں اور مستقبل کے ترقیاتی اقدامات کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ ڈاکٹر ساجد اقبال نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں لائیوسٹاک کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور دیہی آبادی کی ایک بڑی تعداد کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ جیسے مویشی نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی آمدنی کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر دودھ اور گوشت کی پیداوار کے لیے جانوروں کو متوازن خوراک، صاف اور وافر پینے کا پانی، معیاری سائیلیج اور ضروری منرلز فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ سائیلیج بروقت تیار کر کے محفوظ کریں تاکہ سال بھر معیاری خوراک دستیاب رہے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ لائیوسٹاک کے سہولت مراکز پر ونڈا، منرلز اور دیگر ضروری اشیاء دستیاب ہیں۔ اسی طرح مصنوعی نسل کشی کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہر دس روز بعد قادرآباد سے مناسب کولڈ چین کے ذریعے نیلی راوی سمیت مختلف اعلیٰ نسلوں کا سیمن سرگودھا ڈویژن لایا جاتا ہے اور تمام اضلاع میں فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فریزین سیمن تقریباً 150 روپے، سیکسڈ سیمن تقریباً 1600 تا 1700 روپے جبکہ گوشت کی بہتر پیداوار کے لیے برہمن سیمن بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ محکمہ کے مصنوعی سیمینیشن ٹیکنیشنز کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں تاکہ اعلیٰ نسل کے جانوروں کی افزائش کے ذریعے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔ڈاکٹر ساجد اقبال نے بتایا کہ سرگودھا ڈویژن میں محکمہ کے 303 ویٹرنری ہسپتال، متعدد ویٹرنری ڈسپنسریاں، تقریباً 20 موبائل ویٹرنری ڈسپنسریاں، اے آئی ٹیکنیشنز اور دیگر فیلڈ عملہ عوام کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ محکمہ کی جانب سے فارمر میٹنگز، سیمینارز، سکول فوکس پروگرام، موبائل ویٹرنری سروسز اور آگاہی مہمات کا بھی باقاعدگی سے انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی لائیوسٹاک کارڈ اسکیم سمیت مختلف فلاحی منصوبوں سے کسان مستفید ہو رہے ہیں جبکہ آئندہ تحصیل کی سطح پر ماڈل ویٹرنری ہسپتال بھی قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھیڑ بکریوں اور پولٹری کے شعبوں کی ترقی کے لیے بھی نئی اسکیموں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کسانوں اور مویشی پال حضرات سے اپیل کی کہ وہ مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے اپنے قریبی محکمہ لائیوسٹاک کے دفتر، فیلڈ سٹاف یا محکمہ کی ہیلپ لائن9211 0800 پر رابطہ کریں۔ پروگرام کے میزبان سبطین بلوچ تھے، جبکہ محمد جمشید قادری نے پروگرام پروڈیوسر، فریحہ کنول ایگزیکٹو پروڈیوسر اور ذیشان افضل سٹوڈیو انجینئر تھے۔ یہ پروگرام ریڈیو پاکستان سرگودھا سے نشر کیا گیا۔

مزید خبریں