تہران۔3نومبر (اے پی پی):ایرانی حکومت کو امریکا کی طرف سے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی دعوت موصول ہونے کے بعد ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے واضح کیا ہے کہ تہران مذاکرات سے انکاری نہیں تاہم کسی بھی پیشگی شرط کو تسلیم نہیں کرے گا۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات چیت …
مذاکرات سے انکار نہیں مگر پیشگی شرائط قبول نہیں کریں گے،ایران

مزید خبریں
تہران۔3نومبر (اے پی پی):ایرانی حکومت کو امریکا کی طرف سے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی دعوت موصول ہونے کے بعد ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے واضح کیا ہے کہ تہران مذاکرات سے انکاری نہیں تاہم کسی بھی پیشگی شرط کو تسلیم نہیں کرے گا۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات چیت نہیں کریں گے۔ رہبرِ اعلیٰ نے ہمیشہ ہمیں مذاکرات کے آداب اور طریقۂ کار سے واقف رہنے کی ہدایت کی ہے لیکن مذاکرات حقیقی ہونے چاہئیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی پیشگی شرائط مسلط نہیں کی جا سکتیں۔ علی لاریجانی نے مزید کہا کہ مخالفین کو بغیر کسی شرط کے رعایت پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسروں کے نقطۂ نظر کو بدلنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ قومی اتحاد کو مضبوط کیا جائے اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے عوام کی زندگیوں میں استحکام واپس لایا جائے۔ انہوں نے امریکی نمائندہ ٹام بریک کے بحرین میں منعقدہ منامہ کانفرنس میں دیئے گئے بیان پر بھی ردعمل کا اظہار کیا، جس میں انہوں نے خطے میں بڑی تبدیلیوں کی بات کی تھی۔
علی لاریجانی نے کہا کہ ٹام بریک نے بعض ممالک کو مذاکراتی ٹرین پر سوار ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے دراصل ایک طرح کا دھمکی آمیز پیغام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹام بریک نے کہا تھا کہ یہ آخری موقع ہے یا تو ہماری بات سنو یا پھر آزاد ہو جاؤ۔ علی لاریجانی نے کہا کہ اس جملے کا مطلب صاف ہے یعنی اگر بات نہ مانی تو اسرائیل کو تم پر حملے کی اجازت دی جائے گی۔ گزشتہ ہفتے علی لاریجانی نے انکشاف کیا تھا کہ ایران، امریکا اور یورپی ممالک (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) کے درمیان ستمبر میں ہونے والے مذاکرات اس لئےناکام ہوئے کیونکہ مغربی فریق ایران سے اپنے میزائلوں کی حد 500 کلومیٹر سے کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طاقت کے ذریعے امن حاصل کرنے کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک امریکا غیر معقول اور حد سے بڑھے ہوئے مطالبات کرتا رہے گا، ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گا۔








