وفاقی وزیر برائے امورکشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن عدالتوں سے سزا یافتہ شخص کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی،سہیل آفریدی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ، ان کی جماعت کو عوامی حمایت حاصل نہیں ۔ پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی اور وزیر …
مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن قیدی کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی، پی ٹی آئی حکومت ناکام ہوچکی،اسے عوامی حمایت حاصل نہیں ، انجینئر امیر مقام

مزید خبریں
پشاور۔ 28 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امورکشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن عدالتوں سے سزا یافتہ شخص کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی،سہیل آفریدی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ، ان کی جماعت کو عوامی حمایت حاصل نہیں ۔ پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی اور وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت کو عوامی حمایت حاصل نہیں ۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر کرپشن اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے اور بہت جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی، وہ سزا یافتہ ہیں، سزا عدالتوں سے ہوئی ہے اور رہائی ہمارے بس میں نہیں ۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ مذاکرات ہوں گے لیکن اس کا طریقہ کار ہے، یہ نہیں ہوتا کہ آپ کی سوئی صرف ایک قیدی پر اٹکی ہو،بانی پی ٹی آئی کو سزا عدالتوں نے دی ہے تو رہائی ہم کیسے دے سکتے ہیں، رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔
امیر مقام نے کہا کہ تحریک انصاف مبینہ طور دہشتگردوں کی آباد کاری میں سہولت کار رہی ہے اور اب بھی ان کی واپسی اور آباد کاری کی خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت پورے ملک میں آزاد گھوم رہی ہے، سیاسی مہم چلا رہی ہے اور انہیں دہشتگردی اور دہشتگرد حملوں کا کوئی خوف نہیں ،پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کے رہنماؤں پر حملے ہوئے اور ہو رہے ہیں لیکن حیران کن بات ہے کہ پی ٹی آئی کو ذرا بھی خوف نہیں ۔امیر مقام نے کہا کہ صوبے کو دہشتگردی کا سامنا ہے، عام لوگ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قربانیاں دے رہے ہیں، سہیل آفریدی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، عوامی فلاح و بہبود پر ان کی کوئی توجہ نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں سے لے کرسکولوں تک صورت حال انتہائی ابتر ہے،انہوں نے عوام پر زور دیا کہ اپنے حقوق کے لیے صوبائی حکومت سے سوال کریں۔ انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی صبح و شام سیاسی معمولات میں مصروف رہتے ہیں اور صوبے کو وقت نہیں دیتے، انہیں کرپشن کی وجہ سے قانون کا سامنا کرنا ہوگا ۔امیر مقام نے کہا کہ سہیل آفریدی کو عوامی حمایت حاصل نہیں ، عوام نے انہیں مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 40 لاکھ لوگ نکالنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن عین وقت پر مارچ کو ہی مؤخر کردیا۔
انہوں نے کہا کہ 40 لاکھ تو بہت دور کی بات یہ ہزار لوگ بھی نہیں نکال سکتے اور فضول میں عام لوگوں کو تکلیف دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کو جو ہوا سب کے سامنے ہے اور اب بھی ایسا ہی منصوبہ ہے۔گورنر راج کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون میں گنجائش موجود ہے اور تمام آئینی و قانونی تقاضے بھی پورے ہیں تاہم فی الحال اس پر بات نہیں ہوئی ۔







