ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نےکوالالمپورمیں ملاقات کی ، جس میں ملائیشیا میں مستقبل میں سائنس و ٹیکنالوجی سربراہی اجلاس کے انعقاد کے امکان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کوالالمپور میں مستقبل کی بین الاقوامی کانفرنس 2026 کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے او آئی سی کامسٹیک کی جانب سے …
ملائیشیا کے وزیراعظم سے او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کی ملاقات، مستقبل کے مشترکہ منصوبوں کو مزید وسعت دینے پر گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نےکوالالمپورمیں ملاقات کی ، جس میں ملائیشیا میں مستقبل میں سائنس و ٹیکنالوجی سربراہی اجلاس کے انعقاد کے امکان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کوالالمپور میں مستقبل کی بین الاقوامی کانفرنس 2026 کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے او آئی سی کامسٹیک کی جانب سے مسلم دنیا کو درپیش مستقبل کے چیلنجز پر کام کرنے اور علم، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ۔
ملاقات میں دونوں رہنمائوں کےدرمیان مستقبل کے مشترکہ منصوبوں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی گفتگو ہوئی۔ پیر کو ملائیشیا کے وزیراعظم نے کامسٹیک کے زیراہتمام انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا کے ادارہ برائے اسلامی فکر و تہذیب میں دو روزہ کانفرنس کا افتتاح کیا۔ کانفرنس او آئی سی کامسٹیک اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا کے اشتراک سے منعقد کی گئی ہے جس میں تقریباً 180 پالیسی ساز، ماہرین تعلیم، سائنس دان، ٹیکنالوجی ماہرین، ادارہ جاتی سربراہان اور نوجوان نمائندے شریک ہیں۔ افتتاحی خطاب میں ملائیشیا کے وزیراعظم نے او آئی سی کامسٹیک اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ کو اپنے علمی ورثے پر عبور، سوال اٹھانے کی جرات اور نئے علمی میدانوں میں آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کا تقاضا ہے کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ترقی اور نئی ٹیکنالوجی کو اخلاقی اقدار، انسانی وقار، ثقافت اور معاشرتی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی صرف معاشی فائدے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے انسان اور معاشرے کی مجموعی بہتری سے جوڑا جانا چاہیے۔ او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سائنس و ٹیکنالوجی سفیر آفتاب احمد کھوکھر نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ علم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی مستقبل تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنس و جدت اب محض معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ خود انحصاری، پائیدار ترقی اور مسلم دنیا کی آئندہ خوشحالی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے مستقبل کے اہم موضوعات پر قائدین، پالیسی سازوں، جامعات اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے کامسٹیک کے کردار کو سراہا۔
او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل نے کہا کہ یہ کانفرنس مسلم دنیا کو تیزی سے بدلتے ہوئے سائنسی، معاشی اور سماجی حالات کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان نئی شراکت داریوں اور علمی تعاون کے مواقع پیدا کرے گی۔ کانفرنس کے چھ بنیادی موضوعات میں مصنوعی ذہانت اور خلائی ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی، مستقبل کی معیشت اور اسلامی سماجی مالیات، اکیسویں صدی میں حلال ٹیکنالوجی، نوجوان قیادت اور انسانی وسائل کی ترقی اور مستقبل کی تعلیم شامل ہیں۔ کانفرنس منگل کو اختتام پذیر ہوگی۔






