مستقبل میں قانونی تنازعات سے بچاو کے لیے نیا لینڈ ایکوزیشن قانون جلد متعارف کرایا جائے گا، آفتاب عالم

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرِصدارت بدھ کو کابینہ کی تشکیل کردہ قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ محکمہ قانون خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین مینا خان آفریدی، مزمل اسلم اور ایم پی اے ظاہر شاہ طورو نے شرکت کی

پشاور۔ 08 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرِصدارت بدھ کو کابینہ کی تشکیل کردہ قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ محکمہ قانون خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین مینا خان آفریدی، مزمل اسلم اور ایم پی اے ظاہر شاہ طورو نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وائس چانسلر ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر سرفراز/سرزمین خان، وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان ڈاکٹر جمیل احمد، وائس چانسلر یو ای ٹی، ڈین باچا خان میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اسد جان درانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مردان اقبال حسین، ڈسٹرکٹ اٹارنی مردان عثمان غنی، رجسٹرار ایگریکلچر یونیورسٹی ڈاکٹر آدم سلیم، محکمہ زراعت، محکمہ اعلیٰ تعلیم، بورڈ آف ریونیو، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مفاد کے لیے حاصل کی گئی اراضی (Land Acquisition) کی منتقلی، واجبات، ڈیکریٹل اماؤنٹس، ریکارڈ کی تکمیل اور اس سے متعلق قانونی، انتظامی اور مالی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

شرکاء کو مختلف منصوبوں میں درپیش رکاوٹوں، زیر التواء مقدمات اور مستقبل میں ان مسائل کے مستقل حل کے لیے مجوزہ اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ماضی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے اراضی اس وقت کے ویلیوایشن ریٹس کے مطابق حاصل کی گئی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ سرکاری ویلیوایشن ریٹس میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، جس کے باعث اراضی کی منتقلی، ادائیگیوں اور عدالتی معاملات میں مختلف قانونی و مالی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض مقدمات میں عدالتوں کے 2018ء اور 2019ء کے فیصلوں کے مطابق مارک اپ کا اطلاق انہی تاریخوں سے ہوگا، جس کے قانونی اور مالی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔اجلاس میں مردان رنگ روڈ سے متعلق ڈیکریٹل اماؤنٹ کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جس پر متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔ مزید برآں فنانس بل میں ڈیکریٹل اماؤنٹس کے تناظر میں ضروری قانونی و مالی نظرثانی کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے گزشتہ اجلاس میں تشکیل دی گئی سب کمیٹی کو سونپی گئی ہدایات پر عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ تمام فیصلوں پر مقررہ مدت کے اندر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی قسم کی قانونی یا انتظامی رکاوٹ قابل قبول نہیں۔ تمام معاملات کو قانون، انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق نمٹایا جائے تاکہ ایک جانب حکومت مستقبل کی قانونی پیچیدگیوں اور غیر ضروری مقدمات سے محفوظ رہے جبکہ دوسری جانب متاثرہ شہریوں کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔وزیر قانون نے ہدایت کی کہ تمام زیر التواء کیسز کا جامع قانونی، انتظامی اور مالی جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں اور موجودہ ویلیوایشن ریٹس، عدالتی فیصلوں اور مروجہ قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا مؤثر لائحہ عمل اختیار کیا جائے جو دیرپا اور قابلِ عمل حل فراہم کرے۔آفتاب عالم نے اس موقع پر اعلان کیا کہ مستقبل میں لینڈ ایکوزیشن سے متعلق مقدمات اور غیر ضروری قانونی تنازعات (Litigation) سے بچنے کے لیے صوبائی حکومت جلد ہی نیا لینڈ ایکوزیشن ایکٹ متعارف کرائے گی، جس کے ذریعے اراضی کے حصول، معاوضوں کی ادائیگی اور ملکیت کی منتقلی کے عمل کو مزید شفاف، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔

اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دو فیصد مارک اپ کے ساتھ چھ سالہ ٹائم فریم پر مشتمل ادائیگیوں کے شیڈول سمیت مختلف قانونی و مالی تجاویز کو حتمی شکل دے کر متعلقہ فورمز کے سامنے پیش کیا جائے گا، جبکہ بین المحکمہ رابطوں کو مزید مؤثر بنا کر ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔