پاکستان نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے ایگزیکٹو بورڈ پر زور دیا ہے کہ مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی آفات اور دیگر انسانی بحرانوں سے متاثرہ بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے فوری اور مؤثر عالمی اقدامات کیے جائیں۔
مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے سے متاثرہ بچوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اقدامات کیے جائیں، اقوام متحدہ میں پاکستان کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوا م متحدہ ۔18جون (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے ایگزیکٹو بورڈ پر زور دیا ہے کہ مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی آفات اور دیگر انسانی بحرانوں سے متاثرہ بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے فوری اور مؤثر عالمی اقدامات کیے جائیں۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے یونیسیف کی سالانہ انسانی ہمدردی کی کارروائیوں سے متعلق رپورٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں بچے ایسے بحرانوں کا شکار ہیں جن کے وہ نہ تو ذمہ دار ہیں اور نہ ہی ان سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی آفات، صحت عامہ کے بحران، غذائی عدم تحفظ اور جبری نقل مکانی بچوں اور ان کے خاندانوں پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
پاکستانی مندوب عثمان جدون نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں، انسانی امداد تک رسائی میں رکاوٹوں اور بچوں کے خلاف سنگین جرائم میں اضافے پر بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔انہوں نے غزہ میں فلسطینی بچوں کی صورتحال کو اس المیے کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بچے بھوک، بیماریوں، تعلیم میں تعطل، صاف پانی کی کمی اور تحفظ کے سنگین خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو کسی بھی صورت مشروط، امتیازی یا مؤخر نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تنازعات، غیر ملکی قبضے، موسمیاتی آفات، صحت کے بحرانوں، غذائی قلت اور نقل مکانی کی صورتحال میں یونیسیف کی جان بچانے والی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ عثمان جدون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ یونیسیف کی انسانی ہمدردی کی کارروائیوں کے لیے مناسب، مستحکم اور لچکدار مالی وسائل فراہم کیے جائیں، خصوصاً ان بحرانوں میں جو مالی وسائل کی کمی یا عالمی توجہ کے فقدان کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ، غذائیت، صحت، صاف پانی، صفائی اور ہنگامی حالات میں تعلیم کی فراہمی کے لیے معاونت ہر ضرورت مند بچے تک پہنچنی چاہیے، کیونکہ بچوں پر سرمایہ کاری دراصل ایک محفوظ، مستحکم اور بہتر مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔








