اقوام متحدہ۔1اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام(ڈبلیو ایف پی)نے خبردار کیا ہے کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہونے سے قبل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدات پر انحصار کرنے والے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں لوگوں کی قوت خرید بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور یوکرین جنگ کے اثرات ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ڈبلیو …
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث لوگوں کی قوت خرید تیزی سے کم ہو رہی ہے، ورلڈ فوڈ پروگرام

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔1اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام(ڈبلیو ایف پی)نے خبردار کیا ہے کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہونے سے قبل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدات پر انحصار کرنے والے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں لوگوں کی قوت خرید بہت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور یوکرین جنگ کے اثرات ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ڈبلیو ایف کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سے رمضان المبارک سے قبل آٹے، تیل اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جب لوگ شام میں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ شام کے وقت روزہ افظار کرتے ہیں۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے لیے ڈبلیو ایف پی کی ریجنل ڈائریکٹر کورین فلیشر نے کہا ہے کہ ہمیں کورونا وائرس کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی اقتصادی صورتحال ،ماحولیاتی تبدیلی اور تصادم کے باعث خطے میں لاکھوں ایسے افراد کے لیے بے حد فکرہے جو وافر مقدار میں خوراک تک رسائی کے لیے پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کی مزاحمت دم توڑنے کے قریب ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا بحران سے خطے میں ہر اور ہر فرد متاثر ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی جانب سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یوکرین بحران درآمدات پر انحصار کرنے والے خطے میں مزید دباؤ ڈال رہا ہے۔
ہر خاندان کی خوراک کے 2اہم جزو آٹا اور کھانے کے تیل کی قیمتیں پورے خطے میں بڑھ گئی ہیں۔ یمن میں کھانا پکانے کے تیل میں 36 فیصد اور شام میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لبنان میں گندم کی قیمت میں 47 فیصد، لیبیا میں 15 فیصد اور فلسطین میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یوکرین کشیدگی کے باعث خطے میں افراط زر اورقیمتوں میں اضافےسے انتہائی کمزور طبقہ کی اشیائے خوردونوش تک پہنچ سے دور ہو گئی ہیں ۔
فروری 2022میں خوراک کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئیں۔ لبنان میں فی خاندان ایک ماہ میں خوراک کی ضروریات کے خرچ میں 351 فیصد ہوا ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ شام میں 97 فیصد اضافہ اور یمن 81 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
خوراک کی درآمدات پر انحصار کرنے والے تینوں ممالک میں کرنسی کی قدر میں بھی تیزی سے کمی کی اطلاعات ہیں۔ دریں اثنا شام میں خشک سالی نے ملک کی سالانہ گندم کی پیداوار کو بھی متاثر کیا ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے عالمی سطح پر آپریشنز کے لیے یوکرین جنگ کے باعث خوراک کے اخراجات میں ماہانہ 71ملین ڈالر اضافہ ہوا ہے جو 2019کے مقابلے میں 50فیصد زیادہ ہے۔
مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے لیے ڈبلیو ایف پی کی ریجنل ڈائریکٹر کورین فلیسچر نے کہا کہ یوکرین بحران سے مالی امداد کی خراب صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے لہذا فوری طور انسانی ضروریات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
عطیہ دہندگان نے حالیہ برسوں میں خطے میں لاکھوں لوگوں کو خوراک فراہم کرنے میں ہماری مدد کی ہے۔ اب صورت حال نازک ہے اور وقت آگیا ہے کہ اور زیادہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا جائے۔








