مشیر برائے خزانہ وامحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مقامی ڈیبٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والی نان ریذیڈنٹ کمپنیوں کیلئے ٹیکس کے نظام کو سہل اورسادہ بنانے، سال 2019-20 کیلئے تمباکو سیس کی شرح پرنظرثانی کرنے اورکھادسازی کی صنعت کو گیس زرتلافی کی مد میں 5.85 ارب روپے کی ادائیگی کی تجاویز کی منظوری دیدی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس …

اسلام آباد ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مقامی ڈیبٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والی نان ریذیڈنٹ کمپنیوں کیلئے ٹیکس کے نظام کو سہل اورسادہ بنانے، سال 2019-20 کیلئے تمباکو سیس کی شرح پرنظرثانی کرنے اورکھادسازی کی صنعت کو گیس زرتلافی کی مد میں 5.85 ارب روپے کی ادائیگی کی تجاویز کی منظوری دیدی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ وامحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ملک میں گندم کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اوربتایا گیا کہ اگرچہ ملک کے بیشتر حصوں میں گندم کی قیمتیں مستحکم ہیں تاہم بعض علاقے اورمقامات جیسے کراچی میں گندم اورآٹا کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے۔ای سی سی نے وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر صورتحال کو قابوسے باہر ہونے سے روکنے ، گندم اورآٹا کی فراہمی اورقیمتوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت توانائی کی جانب سے یکم جولائی 2019 ءکو جاری نوٹیفیکیشن کے تحت سہ ماہی ایڈ جسمٹنٹ کے اطلاق کے ضمن میں زیروریٹڈ صنعتی صارفین کیلئے 7.5 سینٹ کی شرح سے ادائیگی کی تجویز پرغورکیا۔ اس کے علاوہ اس تجویز پر بھی غورکیا گیا کہ زیروریٹڈ سیکٹرصنعتی صارفین کیلئے نیلم جہلم سرچارج، فنانشل کاسٹ سرچارج، ٹیکسز اورپازیٹوفیول ایڈجسٹمنٹ بلنگ کا نہیں بلکہ زرتلافی کا حصہ ہوگی۔ ای سی سی نے اس تجویز کے مالیاتی اطلاق کے تناظر میں مثبت اورمنفی پہلووں کا تفصیل سے جائزہ لیا اورفنانس ڈویژن کو تمام سٹیک ہولڈرز بشمول پاورڈویژن، کامرس ڈویژن اورصنعت وپیداوارکے ساتھ ملاقاتیں کرکے یہ تجویز مضبوط دلائل اورسفارشات کے ساتھ دوبارہ ای سی سی میں دائرکرنے کی ہدایت کی۔