مصر کے ارب پتی کاروباری شخصیت نجیب سوارس کی ہائوسنگ یونٹس کی تعمیر میں دلچسپی

اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) مصر کے ارب پتی کاروباری شخصیت نجیب سوارس نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے 50 لاکھ گھروں پر مشتمل نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ میں مدد کی فراہمی کے لئے پاکستان میں ایک لاکھ ہاﺅسنگ یونٹس کی تعمیر میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ بات ایسٹیٹس کے چیف ایگزیکٹو طارق حمیدی نے سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار عرب نیوز کو …

اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) مصر کے ارب پتی کاروباری شخصیت نجیب سوارس نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے 50 لاکھ گھروں پر مشتمل نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ میں مدد کی فراہمی کے لئے پاکستان میں ایک لاکھ ہاﺅسنگ یونٹس کی تعمیر میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ بات ایسٹیٹس کے چیف ایگزیکٹو طارق حمیدی نے سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ایسٹیٹس اورا ڈویلپرز اور سیف ہولڈنگ کا شراکت دار ہے۔ نجیب سوارس اورا ڈویلپرز کے مالک ہیں جنہوں نے 2017ءمیں سیف گروپ اور کوہستان بلڈرز کی شراکت داری کے ساتھ پاکستان میں ”ایٹین“ کے نام سے اسلام آباد میں ایک ہاﺅسنگ پراجیکٹ کا آغاز کیا تھا۔ نجیب سوارس نے قبل ازیں پاکستان میں موبی لنک میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ طارق حمیدی نے سعودی اخبار کو بتایا کہ نجیب سوارس نے وزیراعظم پاکستان کے آئندہ پانچ برسوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے وژن میں معاونت کی فراہمی میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجیب سوارس نے اس ضمن میں ایک لاکھ باکفایت ہاﺅسنگ یونٹس بنانے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ سال اکتوبر میں اپنے پارٹی منشور کے تحت نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کا اعلان کیا تھا۔ طارق حمیدی نے بتایا کہ یہ وزیراعظم کا ایک جرا¿تمندانہ اور عوام کے لئے حوصلہ افزاءمنصوبہ ہے۔ تاہم 50 لاکھ ہاﺅسنگ یونٹس کے بنانے میں صرف حکومت پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ حال ہی میں پاکستان کے سٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ 50 لاکھ ہاﺅسنگ یونٹ بنانے کے لئے 17 کھرب روپے درکار ہوں گے۔ طارق حمیدی کے مطابق 50 لاکھ مختصر مدت میں نہیں بنائے جا سکتے، 50 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ درست ہے تاہم یہ مرحلہ وار ہوں گے۔ اس کو ایک یا دو سالوں میں نہیں بنایا جا سکتا، اس کے لئے کئی سال درکار ہوں گے۔ طارق حمیدی نے کہا کہ اورا ڈویلپرز نے اسلام آباد میں جو پراجیکٹ شروع کیا ہے اس میں ایک فائیو سٹار ہوٹل، ایک ہزار 68 ہاﺅسنگ یونٹس، 921 اپارٹمنٹس، بزنس پارک، گالف کورس، ہسپتال، سکول اور دیگر تعلیمی ادارے شامل ہیں جس پر 2 ارب ڈالر کی مالیت آئے گی، ہمیں امید ہے کہ یہ منصوبہ 2021ءتک مکمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں لاہور، کراچی اور فیصل آباد میں اسی طرح کے منصوبے شروع کرنے کا ارادہ ہے اور میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ہم آئندہ پانچ سے دس برسوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کے سابق چیئرمین عارف یوسف جیوا نے بتایا کہ پاکستان کو اس وقت ایک کروڑ 20 لاکھ ہاﺅسنگ یونٹس کی ضرورت ہے جس کے لئے 180 ارب ڈالر درکار ہیں۔ سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین ہارون شریف نے بتایا کہ پاکستان کی حکومت توقع کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں خام تیل کی صفائی، پیٹرو کیمیکلز، کان کنی، متبادل توانائی اور ریئل اسٹیٹ کے شعبوں میں 40 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو لایا جائے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ آئندہ تین سے پانچ برسوں میں صرف چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔ آئندہ دو برسوں میں اس سرمایہ کاری کو عملی شکل دی جائے گی۔

مزید خبریں