اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیار کرنے والی کمپنیوں کی رضاکارانہ خود نگرانی موجودہ نقصانات سے نمٹنے اور ایسے خودکار اے آئی ماڈلز کو انسانی حفاظتی نظام سے بچ نکلنے سے روکنے کیلئے ناکافی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن خطرات روکنے کیلئے سخت ضابطے ضروری ہیں، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔15ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیار کرنے والی کمپنیوں کی رضاکارانہ خود نگرانی موجودہ نقصانات سے نمٹنے اور ایسے خودکار اے آئی ماڈلز کو انسانی حفاظتی نظام سے بچ نکلنے سے روکنے کیلئے ناکافی ہے۔
انہوں نے ایک خط میں کہا کہ زیادہ طاقتور اے آئی کی دوڑ ہماری زندگی کے ہر شعبے کیلئے ممکنہ تباہ کن خطرات میں نمایاں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔وولکر ترک نے فرنٹیئر اے آئی کمپنیوں کی میزبانی کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ان کمپنیوں کے کام کے حوالہ سے ضوابط مزید سخت کریں، جن میں کمپنیوں کیلئے سنگین واقعات کی رپورٹنگ، اے آئی کی صلاحیتوں کی تصدیق اور انسانی حقوق سے متعلق احتیاطی جائزہ لازمی قرار دینا شامل ہے۔ انہوں نے رکن ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ اے آئی کے عالمی نظم و نسق کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کثیرالجہتی اداروں کے ذریعے مل کر کام کریں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے کہا کہ کوئی ایک ملک تنہا اس ٹیکنالوجی کو منظم نہیں کرسکتا اور کسی کمپنی کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا کو کون سے خطرات قبول کرنے چاہئیں۔انہوں نے اے آئی کمپنیوں کی جانب سے رضاکارانہ ضابطہ سازی کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سرکردہ فرنٹیئر اے آئی کمپنیوں کی میزبانی کرنے والی ریاستوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کمپنیوں کو ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے کا پابند بنائیں اور خلاف ورزی کی صورت میں انہیں جواب دہ ٹھہرائیں۔
وولکر ترک نے چین اور امریکا کو فرنٹیئر اے آئی ٹیکنالوجی میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی مسابقت اے آئی کے حوالے سے ضوابط میں کمی کی دوڑ کا سبب نہ بنے۔انہوں نے کہا کہ اے آئی کے خطرات اور اس کے نظم و نسق کا بنیادی جائزہ انسانی حقوق پر اس کے اثرات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ اے آئی کی سلامتی کا مقصد صرف انسانیت کو تباہی سے بچانا نہیں بلکہ لوگوں، برادریوں، اداروں اور آنے والی نسلوں کا فعال تحفظ بھی ہے۔ہائی کمشنر نے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ اے آئی سے متعلق حفاظتی اقدامات جدت کی رفتار سست کرتے ہیں۔
ان کے مطابق زندگی، خوراک، رازداری، صحت اور سلامتی سمیت بنیادی انسانی حقوق غیر ذمہ دارانہ اے آئی ترقی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے آئی غلط معلومات کے پھیلاؤ اور غیر مساوی خودکاری کا ذریعہ بنتی ہے یا موسمیاتی بحران سے نمٹنے اور بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہوتی ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کمپنیاں اور حکومتیں موجودہ اہم مرحلے پر کیا اقدامات کرتی ہیں۔وولکر ترک نے کہا کہ موجودہ نسل کے بعد جوانی میں داخل ہونے والی نسل ان فیصلوں کے نتائج بھگتے گی جن میں اس کی کوئی رائے شامل نہیں، اس لیے اے آئی سے متعلق فیصلے شفاف انداز میں اور انسانی حقوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔








