اقوام متحدہ ۔19جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے منعقدہ پہلےاجلاس میں چین نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو بےلگام گھوڑانہیں بننا چاہیے۔ جبکہ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ یہ لوگوں پر پابندی لگانے یا اُنہیں دبانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمز کلیوری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگی …
مصنوعی زہانت دو دھاری تلوار ہے، اس ٹیکنالوجی کو بےلگام گھوڑانہیں بننا چاہیے، سلامتی کونسل میں بحث کے دوران چین کا موقف

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔19جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے منعقدہ پہلےاجلاس میں چین نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو بےلگام گھوڑانہیں بننا چاہیے۔ جبکہ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ یہ لوگوں پر پابندی لگانے یا اُنہیں دبانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے وزیر خارجہ جیمز کلیوری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کے ہر بنیادی پہلو کو بدل دے گی۔انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور معیشتوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم یہ ٹیکنالوجی غلط معلومات کو ہوا دینے اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی ہتھیاروں کی تلاش میں معاونت کر سکتی ہے۔15 رکنی کونسل کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، ہائی پروفائل آرٹیفیشل انٹیلی جنس سٹارٹ اپ ’اینتھروپک‘ کے شریک بانی جیل کلارک اور چائنا یو کے ریسرچ سینٹر فار اے آئی ایتھکس اینڈ گورننس کے شریک ڈائریکٹر پروفیسر زینگ یی نے بریفنگ دی۔اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے فوجی اور غیرفوجی شعبوں میں استعمال کے دونوں ہی عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس غیرمعمولی ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کے کچھ ریاستوں کی طرف سے اقوام متحدہ کے ایک نئے ادارے کے قیام کے مطالبات کی حمایت کی۔اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون نے مصنوعی ذہانت کو ’دو دھاری تلوار‘ قرار دیا اور کہا کہ چین مصنوعی زہانت کے لئے رہنما اصولوں کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی زہانت کا انحصار اس بات پر ہے کہ انسان اسے کس طرح استعمال کرتا ہے۔ اسے کس طرح منظم کرتا ہے اور ہم سائنسی ترقی کو سکیورٹی کے ساتھ کس طرح متوازن کرتے ہیں۔
ژانگ جون نے کہا کہ لوگوں اور مصنوعی ذہانت پر توجہ دینا ہو گی تاکہ اس ٹیکنالوجی کو بےلگام گھوڑا بننے سے روکا جا سکے ۔ اقوام متحدہ میں نائب امریکی سفیر جیفری ڈی لارینٹس کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ممالک کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے جس سے امن و سلامتی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔انہوں نے کونسل کو بتایا کہ کسی بھی رکن ممالک کو مصنوعی ذہانت کا استعمال لوگوں پر پابندی لگانے ، مجبور کرنے، دبانے یا بے اختیار کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔








