چیف جسٹس پاکستان یحیٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عالمی یومِ عدالتی فلاح و بہبود ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مضبوط نظامِ انصاف کی بنیاد صرف قوانین اور ادارے نہیں بلکہ ججز کی فلاح و بہبود بھی ہے، عدالتی فلاح و بہبود انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ عدالتی آزادی، ادارہ جاتی دیانت داری اور قانون کی حکمرانی پر عوامی اعتماد کی بنیاد ہے
مضبوط نظامِ انصاف کی بنیاد قوانین اور ادارے ہی نہیں ججز کی فلاح و بہبود بھی ہے،چیف جسٹس پاکستان

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جولائی (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان یحیٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عالمی یومِ عدالتی فلاح و بہبود ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مضبوط نظامِ انصاف کی بنیاد صرف قوانین اور ادارے نہیں بلکہ ججز کی فلاح و بہبود بھی ہے، عدالتی فلاح و بہبود انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ عدالتی آزادی، ادارہ جاتی دیانت داری اور قانون کی حکمرانی پر عوامی اعتماد کی بنیاد ہے۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ سے عالمی یومِ عدالتی فلاح و بہبود کے موقع پر جاری پیغام میں چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ ججز انتہائی مشکل حالات میں اہم ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں،آزاد، غیر جانبدار اور معیاری انصاف کی فراہمی کے لیے ججز کو مضبوط ادارہ جاتی معاونت درکار ہے،پیشہ ورانہ ترقی، جدید عدالتی ماحول اور مؤثر انتظامی نظام عدالتی کارکردگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں عدالتی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت دے رہی ہے،ڈیجیٹل تبدیلی، بہتر عدالتی انفراسٹرکچر، ادارہ جاتی معاونت اور عدالتی تعلیم اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کو مضبوط بنانا درحقیقت نظامِ انصاف کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے ججز کی دیانت داری، عزم اور پیشہ ورانہ خدمات اور دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ججز کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں خدمات انجام دینے والے ججز عدلیہ کی اعلیٰ روایات کی عملی مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ عدالتی فلاح و بہبود انصاف کے انسانی پہلو اور اعلیٰ عدالتی معیار سے وابستگی کی تجدید کا دن ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہر جج باوقار، پُراعتماد اور مؤثر انداز میں فرائض انجام دینے کے لیے ادارہ جاتی معاونت کا مستحق ہے،ججز کو مضبوط بنا کر ہی نظامِ انصاف کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے








