جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سخت اور غیر لچکدار حکمت عملی نے آئینی ماہرین اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہےجبکہ مطالبات تسلیم ہونے کے باوجود مذاکرات سے انکار اور انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں پرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
مطالبات تسلیم ہونے کے باوجود مذاکرات سے انکار اور انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں پرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو تنقید کا سامنا

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سخت اور غیر لچکدار حکمت عملی نے آئینی ماہرین اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہےجبکہ مطالبات تسلیم ہونے کے باوجود مذاکرات سے انکار اور انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں پرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ( جے اے اے سی ) کی جانب سے ادارہ جاتی مذاکرات سے مسلسل گریز اور مقررہ عملدرآمد کمیٹی سے رابطے سے انکار پر وسیع پیمانے پر یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ کمیٹی آزاد جموں و کشمیر ( اے جے کے ) میں جمہوری عمل کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دانستہ طور پر انتخابات کو متاثر کرنے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ تنقید اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب کمیٹی نے 9 جون 2026 کو پہیہ جام ہڑتال کی کال برقرار رکھی، جبکہ اسی روز آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے امیدواروں کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا عمل شروع کرنے کا شیڈول مقرر کر رکھا ہے۔حکومت نے کمیٹی کے تحفظات کے حل کے لیے باضابطہ اور قانونی ذرائع قائم کیے ہیں، تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بارہا ان فورمز کو نظرانداز کیا ہے۔ایک اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کمیٹی باقاعدہ طور پر تشکیل دی گئی اور یہ متفقہ نکات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے فعال اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس سرکاری فورم میں شرکت اور تعاون غیر مستقل اور نامکمل رہا ہے۔اسی طرح 12 مہاجر قانون ساز نشستوں کے حساس مسئلے پر غور کے لیے ایک آزاد ماہرین کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ قانونی خاکہ پیش کرنے یا منظم مباحثے میں حصہ لینے کے بجائے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس ماہرین پینل کا مکمل بائیکاٹ کیا، جس کے باعث معاملات میں طویل تاخیر پیدا ہوئی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ نوٹیفائیڈ کمیٹیوں سے دوری اختیار کرکے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی جان بوجھ کر کشیدگی کی فضا برقرار رکھنا چاہتی ہے تاکہ سڑکوں پر مبنی دباؤ اور الٹی میٹمز کا جواز پیدا کیا جا سکے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سخت اور غیر لچکدار حکمت عملی نے آئینی ماہرین اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ انتخابی شیڈول کے مطابق امیدواروں کو 9 جون سے 19 جون تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا قانونی حق حاصل ہے۔الزامات کے مطابق اسی آئینی عمل کے پہلے دن بڑے پیمانے پر ہڑتال اور سڑکوں کی بندش کے ذریعے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی امیدواروں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، انتخابی عملے کو مفلوج بنانے اور عام ووٹرز کے جمہوری حقوق کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔بیلٹ بکس کے بجائے سڑکوں کی طاقت پر اصرار کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اختیار کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو عوامی مینڈیٹ کی اعلیٰ ترین آئینی نمائندہ اسمبلی ہے اور جو سیاسی مشاورت کے دوران حاصل شدہ اتفاقِ رائے کی قراردادوں کی باقاعدہ توثیق بھی کر چکی ہے۔حکومت کے غیر ذمہ دار ہونے کا تاثر سرکاری اقدامات کی روشنی میں غلط ثابت ہو چکا ہے۔ ابتدائی 38 مطالبات میں سے 35 یا تو مکمل طور پر پورے کیے جا چکے ہیں یا ان پر عملدرآمد اپنے آخری مراحل میں ہے۔سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے ریاست نے 177 فوجداری مقدمات ( ایف آئی آرز) واپس لے لیے۔ جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کو مجموعی طور پر 7 کروڑ روپے (ہر خاندان کو ایک کروڑ روپے، سات کیسز میں) ادا کیے گئے جبکہ 48 زخمی افراد میں 4 کروڑ 80 لاکھ روپے تقسیم کیے گئے۔حکومت نے کابینہ کا حجم کم کرکے 20 وزراء تک محدود کیا، انتظامی محکموں کی تعداد 22 کر دی، سرکاری تقرریوں اور تعلیمی داخلوں میں اوپن میرٹ نافذ کیا، جبکہ گندم کے معاملے میں پاسکو کے ساتھ 50:50 تناسب کا نظام اپنایا گیا۔بجلی کے شعبے میں 5 کلو واٹ تک ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کی گئی، اضافی سرچارجز ختم کیے گئے، بقایاجات کو 36 اقساط میں تقسیم کیا گیا، جبکہ منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے تمام بقایا بل معاف کر دئیے گئے۔تعلیمی داخلوں اور سرکاری ملازمتوں کے لیے اوپن میرٹ پالیسیوں کو نافذ اور نوٹیفائی کیا گیا۔ جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس کم کرکے 8.5 فیصد کر دیا گیا۔حکومتِ پاکستان کا ہیلتھ کارڈ پروگرام آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں تک توسیع دیا گیا۔ متعدد بڑے ترقیاتی منصوبے، جن میں 36 کروڑ 10 لاکھ روپے کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبے کی PC-1 منظوری، ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینوں کے لیے 5.5 ارب روپے، اور ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز کے لیے 2.8 ارب روپے شامل ہیں، متعلقہ فورمز میں فعال طور پر زیرِ عمل ہیں۔باقی رہ جانے والے تین مطالبات ریاستی بجٹ اور آئینی قوانین سے جڑے پیچیدہ معاملات ہیں۔ ایسے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پارلیمانی ورکنگ گروپس کے ذریعے ان پر بات چیت سے مکمل انکار اور انتخابی دن ریاست کو بند کرنے کی کوشش نے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے۔کمیٹی کو اس الزام پر بڑھتی ہوئی مذمت کا سامنا ہے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے ایک محدود سیاسی ایجنڈے کے تحت اداروں پر عدم اعتماد پیدا کرنا چاہتی ہے۔مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا حقیقی مقصد کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ ہے تو پھر اس کی جارحانہ حکمت عملی آزاد کشمیر کے داخلی امن کے لیے خطرہ کیوں بن رہی ہے؟ جبکہ بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں کشمیری بنیادی حقوق کی پامالی، محدود سیاسی آزادیوں اور شدید ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، ناقدین پوچھتے ہیں کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنی احتجاجی توانائیاں آزاد کشمیر کی منڈیوں، سڑکوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور روزگار کو بند کرنے پر کیوں صرف کر رہی ہے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کا مجموعی جائزہ کئی سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے، جن میں ٹیکس نظام کو کمزور کرنا، مہاجر نشستوں اور مہاجر طلبہ کو نشانہ بنانا، حکومتی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرنا، ہڑتالوں کے ذریعے مصنوعی دباؤ پیدا کرنا، اور حکومتی لچک کے باوجود جمہوری عمل کو خطرے میں ڈالنا شامل ہے۔مبصرین کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجر نشستوں اور مہاجر طلبہ کو خصوصی طور پر نشانہ بنانا محض اتفاق نہیں لگتا، بلکہ یہ ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو کشمیر کاز کی سیاسی اور تاریخی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہے








