اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران دنیا کو پاکستان کا اصل چہرہ دکھایا، وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ کشمیریوں کا سفیر بن مسئلہ کشمیر کا مقدمہ لڑیں گے اور انہوں نے اس کا حق ادا کر دیا ہے، …
معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی نجی ٹی وی سے بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 ستمبر (اے پی پی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران دنیا کو پاکستان کا اصل چہرہ دکھایا، وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ کشمیریوں کا سفیر بن مسئلہ کشمیر کا مقدمہ لڑیں گے اور انہوں نے اس کا حق ادا کر دیا ہے، وزیر اعظم نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ دنیا ہمارے ساتھ کھڑی رہے یا نہ رہے پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کیلئے لڑے گا بھی، زلزلے کے بارے میرے بیان کو غلط شکل دی گئی تھی جس پر مجھے میڈیا سے شکایت ہے، قومی سانحے کو میرے بیان سے جوڑ کر میرا مذاق اڑایا گیا، وزیر اعظم افراد کو دیکھ کر نہیں بلکہ ملک کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں، وزیر اعظم کابینہ میں تبدیلی کا حق رکھتے ہیں وہ جو فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہو گا، وزیر اعظم نے پہلے واضع کیا تھا کہ جس وزیر کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہو گی اسے گھر جانا ہو گا،اعوان کے جانے کی خواہشات رکھنے والوں کا کچھ نہیں کہہ سکتی، سابقہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے حالات خراب ہوئے،نیب آزاد ادارہ ہے اورادارے کے فیصلوں کو حکومت سے جوڑنا صحیح نہیں ، ملک میں رولز آف لاءکا نفاذ ہو چکا ہے جو کہ مثبت تبدیلی ہے، اگر حکومت کے خلاف بھی فیصلے آئے تو ہمارے کارکن نہ صرف عدالتی فیصلوں کا احترام کریں گے بلکہ ہم اداروں کے صحیح فیصلوں کو سپورٹ بھی کریں گے۔. وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی سے بات چیت کر رہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی تشخص اجاگر کیا۔ 9/11 کے حوالے سے عمران کے بیانیے کو غلط نہ لیا جائے، انہوں نے دنیا کو پاکستان کی قربیاں بتائیں، وزیر اعظم نے 9/11 کے بعد بھی طالبان کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بننے کی مخالفت کی تھی، وہ اس وقت بھی جنگ کے خلاف تھے اور انہوں نے زور دیا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کر کے مسئلے کو حل کریں۔ طالبان سے تعلق کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا خطے میں امن کیلئے طالبان سے تعلق ہے کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان کے لئے ضروری ہے، دہشت گرد کارروائیوں میں کمی آئے گی تو پاکستان ترقی کرے گا۔ جارج سورس سے وزیر اعظم کی ملاقات کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ انٹرنیشنل ڈپلومیسی میں مذہب کی بناءپر کسی کو آن اور ڈس آن نہیں کیا جاتا، آپ دنیا کے کسی ملک بھی جائیں تو ارد گرد کے چیلنجز اور ماحول کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو تبدیل کرنے کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شاہ محمود وزیر اعظم کی ٹیم کے اہم رکن ہیں، وہ اپنی ذمہ داری اچھی طریقے سے نبھا رہے ہیں۔








