معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی معاون خصوصی صحت ظفر اللہ کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے وی آئی پی شخصیت کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست یکسر مسترد کردی،کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے وی آئی پی شخصیت کا نام نکالنے کی مخالفت کی ہے جس کی وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے توثیق کر دی ، کابینہ نے ملک میں ایک اور یکساں قانون کے اطلاق پر اتفاق رائے کیا، وفاقی کابینہ …

اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے وی آئی پی شخصیت کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست یکسر مسترد کردی،کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے وی آئی پی شخصیت کا نام نکالنے کی مخالفت کی ہے جس کی وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے توثیق کر دی ، کابینہ نے ملک میں ایک اور یکساں قانون کے اطلاق پر اتفاق رائے کیا، وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ناموں کے اندراج اور خارج کرنے کے حوالے سے تجویز ، جان بچانے سمیت دیگر اہم 89ادویات کی قیمت میں 15فیصد کمی ، لائن آف کنٹرول پر بسنے والے افراد کے لئے خصوصی پیکیج ،رئیر ایڈمرل ذکاءالرحمان ، ہلالِ امتیاز (ملٹری) کو جنرل منیجر (آپس) کراچی پورٹ ٹرسٹ تعینات سمیت دیگر اداروں کے سربراہان اور بورڈ ممبران کی تعیناتیوں کی منظوری دیدی ہے، حکومت کوعدالتی فیصلوں کا احترام ہے، موجودہ حکومت پرچیوں اور خواہشات سے نہیں آئین اور قانون پر چل رہی ہے،وزیراعظم عمران خان نےڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی )ڈریپ) کے معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس ادارے سے کرپشن اور بدعنوانیوں کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ منگل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ظفر اللہ کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس 12دسمبر2019میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی ہے،کابینہ نے حامد ہارون (ملٹری لینڈز اینڈ کینٹونمنٹ /بی ایس 22) کو سینئر ممبر فیڈرل لینڈ کمیشن تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے فرخ اقبال خان کو صدر/سی ای او فرسٹ وویمن بنک لمیٹڈ، عرفان بخاری کو چیف ایگزیکیٹو آفیسرایگزم بنک آف پاکستان تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے ہاﺅس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ میں وفاقی حکومت کے شئیرز فروخت کرنے کا معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ ای سی سی کی منظوری کے بعد کابینہ کی جانب سے منظوری دی جائے گی۔کابینہ نے چئیرمین اور ممبران نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی تعیناتی کے لئے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جو مجوزہ ناموں میں سے موزوں افراد کا انتخاب کرکے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے شئیر کرے گی۔کابینہ نے ڈاکٹر توقیر احمد، چیف فنانس اینڈ اکاﺅنٹس آفیسر اور محمد ایوب ، ڈائریکٹر لیگل وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بطور ممبران بورڈ آف ٹرسٹیز پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔کابینہ نے اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ چونکہ بورڈ آف ٹرسٹیز کی موجودہ معیاد 27جنوری 2020کو ختم ہو رہی ہے لہذا کابینہ نے جوائنٹ سیکرٹری (ایڈمن) وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈائریکٹر لیگل کی دوبارہ تعیناتی کے لئے بھی منظوری دی۔ کابینہ نے پاکستان سپورٹس بورڈ کے بورڈ اور ایگزیکیٹو کمیٹی کی ازسر نو تشکیل اور قوانین میں ترامیم کی منظوری دی۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کا بورڈگیارہ ممبران پر مشتمل ہوگا۔ جن میں دو ممبران کانجی شعبے سے تعلق ہوگا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ .53ملین لوگ لائن آف کنٹرول پر بستے ہیں ۔ ان میں سے 79992 گھر بھارتی افواج کی جانب سے شیلنگ کی زد میں رہتے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 13982گھرانوںکی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے معاونت کی جا رہی ہے۔ کابینہ نے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے افراد کے لئے خصوصی پیکج کی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے خاندانوں کی احساس پروگرام کے تحت راشن اسکیم کے ذریعے معاونت کی جائے گی۔ کابینہ نے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لئے مندرجہ ذیل فیصلوں کی منظوری دی۔ ان فیصلوں کی منظوری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بورڈ سے ہو چکی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے 33498خاندانوں کی ہر شادی شدہ خاتون کو ہر سہ ماہی میں پانچ ہزار روپے دئیے جائیں گے۔اور یہ چار سہ ماہی کے لئے دئیے جاتے رہیں گے۔ اس پر کل اخراجات کا تخمینہ 670ملین روپے ہے۔ اگر خاندانوں کی تعداد 33498سے بڑھے گی تو معاملہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بورڈ کے سامنے دوبارہ پیش کیا جائے گا۔ یہ پیکج مالی سال 2019-20کے لئے ہے۔ اس معاونت کے لئے اخراجات بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ سے پورے کیے جائیں گے ۔ بجٹ سے تجاوز کی صورت میں وفاقی حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کومزید فنڈز فراہم کرے گی۔ کابینہ نے رئیر ایڈمرل ذکاءالرحمان ، ہلالِ امتیاز (ملٹری) کو جنرل منیجر (آپس) کراچی پورٹ ٹرسٹ تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے کیون رائے Mr. Kevin Royکو دو سال کے لئے جنرل منیجر (فنانس) کراچی پورٹ ٹرسٹ تعینات کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے رئیر ایڈمرل زاہد الیاس، کمانڈر کراچی پاکستان نیوی کو کراچی پورٹ ٹرسٹ میں بطور ممبر بورڈ آف ٹرسٹیز تعینات کرنے کی منظوری دی۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے کابینہ نے 89ادویات کی قیمتوں میں کمی کرنے کی منظوری دی ۔ کابینہ نے37 نئی ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے اور 85ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر غور کرنے کی ذمہ داری ہیلتھ ٹاسک فورس کے حوالے کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ادویات کی قیمتوں کو مزید بہتر طریقے سے منظم کرنے کے لئے ایک نئی پالیسی مرتب کرنے کا عمل جاری ہے جسے بہت جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ دو ماہ میں پالیسی کو حتمی شکل دی جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ادویات کے معاملے میں سستی اور دستیابی کے پہلوﺅں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی )ڈریپ) کے معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ اس ادارے سے کرپشن اور بدعنوانیوں کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق ڈریپ میں بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور اس نظام میں آٹومیشن کی جا رہی ہے جو کہ جون2020تک مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہماری اولین کوشش ہے کہ عوام کو سستے داموں معیاری ادویات میسر آئیں انہوں نے کہا کہ ضروری ادویات کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ فارماسیوٹیکل کے شعبے میں اصلاحات کے لئے نیشنل میڈیسن پالیسی بھی متعارف کرائی جائے گی۔ کابینہ نے طلحہ علی خان دو سال کے لئے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ اسلام آباد تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے نیشنل پاور پارکس منیجمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی از سر نو تشکیل کی منظوری دی۔ کابینہ نے پولیو کی مہم کے لئے درکار فنگر مارکر کی بھارت سے امپورٹ کے لئے اجازت دی۔ یہ اجازت ایک دفعہ کے لئے ہے اور مطلوبہ فنگر مارکر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے منظور شدہ ہے۔ کابینہ نے وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ناموں کے اندراج اور خارج کرنے کے حوالے سے تجویز کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لئے لوکل گورنمنٹ کمیشن کی تشکیل کی منظوری دی۔ کابینہ نے علی نواز اعوان کو کمیشن کا چئیرمین مقرر کرنے کی منظوری دی۔ ٹیکنوکریٹ (میل) کے لئے علی بخاری جبکہ ٹیکنوکریٹ (فی میل) کے لئے طیبہ ابراہیم کے ناموں کی منظوری دی۔ کابینہ نے پانچ ماہرین کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ریگولیشن بورڈ میں شامل کرنے کی منظوری دی ۔معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس کفالت پروگرام پر کابینہ کوتفصیلی بریفنگ دی۔ ڈاکٹر ثانیہ نے بتایا کہ احساس پروگرام مکمل طور ڈیجیٹل اور فنانشل انکلیوژن کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت معاونت کی رقم کو مستحقین تک پہنچانے کے پورے نظام کو ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ احساس کے پروگرام میںشفافیت کو مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت مستحقین کو دئیے جانے والے کارڈز پر کسی سیاسی شخصیت کی نہیں بلکہ احساس اور حکومت کا برینڈ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی طریقوں سے ڈیٹا کا جائزہ لے کر غلط اندراج کا تدارک کیا گیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس وقت اکاون لاکھ افراد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے لئے سروے 2010-11میں کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اس سروے کے حوالے سے شکایات تھیں وہاں وقت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ سروے کا از سر نو جائزہ لینے کے لئے نادرا کی معاونت سے مشق کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ از سر نو سروے کے عمل کے دوران مندرجہ ذیل عوامل پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ایسے افراد جو اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں تو کیا وہ یا انکے گھر والوں نے ایک دفعہ یا زیادہ دفعہ بیرون ملک دورہ کیا ہے؟کیا ان کے پاس کوئی موٹر کار یا گاڑی ہے؟۔ کیا انہوں نے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ کے حصول کے لئے ایگزیکیٹو سروس سے استفادہ کیا ہے؟۔کیا وہ یا ان کی زوجہ وفاقی حکومت کے اداروں، پاکستان ریلوے، پاکستان پوسٹ میں ملاز م ہیں؟انہوں نے کہا اگر مندرجہ بالا عوامل کو مدنظر رکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ 820165لوگوں کواحساس پروگرام کے دائرہ کار میں نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر ثانیہ نے بتایا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ جن افراد کے پاس بارہ ایکڑ سے زیادہ زمین ہے وہ افراد بھی احساس کفالت پروگرام کے لئے مستحق نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے 820165افراد کو پروگرا م سے خارج کرنے کے بعد مزید مستحق افراد کو پروگرام میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں 17ضلعوں میں سروے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ ان اضلاع میں جنوری میں احساس کفالت پروگرام شروع کر دیا جائے گا۔ اس میں چار اضلاع پنجاب، چار اضلاع خیبر ختونخوا، چار اضلاع سندھ، تین اضلاع بلوچستان، ایک گلگت بلتستان اور ایک ضلع آزاد جموں و کشمیر شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میں 42اضلاع میں احساس کفالت پروگرام کے اجراءکا عمل فروری کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا اس میں بلوچستان کا سارا علاقہ اور سندھ کے بیشتر حصے شامل ہوں گے۔تیسرے مرحلے میں جون تک پچاس مزید اضلاع کو کفالت پروگرام کو شروع کر دیا جائے گا۔ اس میں مرکزی پنجاب، اپر سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقے شامل ہوں گے۔ چوتھے فیز میں مزید پچاس اضلاع کو ستمبر تک کفالت پروگرام میں شامل کر لیا جائے گا۔ ان اضلاع میں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر سیالکوٹ اور ناروال کے علاقے شامل ہوں گے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ احساس کارڈ کو مکمل طور پر بائیومیٹرک کر دیا گیا ہے۔ اور اس کارڈ پر کوئی تصویر نہیں ہوگی۔ ڈیجیٹل سروے کی بدولت غلط اندراج اور غلط کوائف کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی۔ اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے سے کابینہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اب تک مستفید ہونے والے ایسے افراد کو جو غربت کے دائرے سے نکل چکے ہیں ان کو پروگرام سے نکالنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ حکومت کے وعدے کے مطابق احساس کفالت پروگرام کے تحت وظیفہ کی رقم پانچ ہزار سے بڑھا کر 5500 کردی جائے۔ کابینہ نے 820165 غیر مستحق افراد کو بے نظیر سپورٹ پروگرام سے خارج کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ٹیکس لازمیں ترامیم کی منظوری دی۔ ان میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ1990، کسٹمز ایکٹ 1960اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے قوانین شامل ہیں۔ ظفراللہ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں پر نظرثانی ،89ادویات کی قیمتوں کو کم کیا گیا ہے ان جان بچانے کی ادویات بھی شامل ہیں ،یہ کمی 2018کی میڈیسن پرائسنگ پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں کمی کی ہے ،اگر کو ئی اہم اور نئی دوائی ملٹی نیشنل مارکیٹ میں لاتے ہیں تو وہ محدود مدد کے لئے پیرنٹ پروٹیکشن ہوتی ہے ،اس مدت کے مکمل ہونے کے بعد اس دوا کو امپورٹ کیا جاتا ہے یا مقامی طور پر تیار ہوتی ہے ،پالیسی 2018کہتی ہے کہ ملٹی نیشنل کی جانب سے آنے والا نیا مالیکول کی قیمتیں بہت زیادہ ہوتیں ہیں اگر یہ دوائی مقامی مارکیٹ میں مہیا کی گئی تو اس کا شمار اہم اور ضروری ادویات کی قومی فہرست میں اس کا شمار ہے تو اس کی قیمت ہر سال بعد 10فیصد کم کرنا پڑتی ہے، تین سال تک 10فیصد قیمت سالانہ کم کی جاتی ہے ، جب یہ دوا مقامی سطح پر دستیاب ہوتی ہے تو مقامی سطح پر تیار ہونے والی ادویات کی قیمتوں کا تعین کرتے ہیں ۔گذشتہ سال ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، 15فیصد کمی کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی ہے جو کہ 89ادویات کے لئے ہے اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا ،ان ادویات میں لیپوٹور گولی (بلڈ پریشر) کے لئے استعمال ہوتی ہے پہلے قیمت908 اور اب 15فیصد کر کے 775ہوگئی ،فوٹم اینٹی بائیٹیکس 334تھی 285ہوگئی ،اس طرح 89ادویات کی قیمتوں میں 15فیصد کمی کی گئی ہے ۔وزیراعظم نے ہدایات دیں ہیں کہ دو ماہ میں پرائسنگ پالیسی پر نظر ثانی کی جائے تا کہ قیمتوں میں توازن لایا جاسکے ،آئندہ دو ماہ میں اس پالیسی پر نظر ثانی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صفائی کی ناقص صورتحال پر اظہار ناپسندیدگی کیا، چیئرمین سی ڈی اے کو اسلام آباد میں صفائی کی صورتحال فوری بہتر کرنے کی ہدایت کی گئی۔اسلام آباد کے سنیٹری ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کی ذمہ داری میئر کی ہے لیکن وہ تو لندن جیسے پرفضاءمقام کی سیر اورلندن یاترا پر ہیں مجبوراً سی ڈی اے کو تنخواہیں ادا کرنا پڑیں۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ٹیکس قوانین میں اصلاحات کی منظوری دی۔ وزیراعظم نے کاروباری حضرات کے حوالے سے ریونیو اہداف ،کاروبار میں آسانی ،روزگار پیدا کرنے کے لئے وزارتوں کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ اس چیز کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں غربت کے خاتمہ اور اضافی ٹیکسیشن کے حوالے سے کیسے یکساں نظام لیا جاسکتا ہے تا کہ عام شہری کو ریلیف مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے سامنے ای سی ایل میں نام ڈالنے اور نکالنے سے متعلق مختلف کیسز پیش کیے گئے، وی آئی پی شخصیت ،مخصوص خاندانی سیاست کی امین ،وراثت کے ساتھ سیاسی اثاثے حاصل کرنے والی شخصیت کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جائے گا۔ کابینہ نے نامور شخصیت کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے ، کابینہ نے 4نام ای سی ایل میں ڈالنے اور 8نام نکالنے کی منظوری دی، کابینہ نے نام نہ نکالنے کے حوالے سے ذیلی کمیٹی کے فیصلے کی توثیق کی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کابینہ میں کوئی بھی ایسی دستاویز جو قانون اور آئین سے متضادم ہوتووہ ایجنڈا آئٹم نہیں ہوتا ،متعلقہ ادارے پہلے دستاویز کا جائز لیتے ہیں تما م رکاوٹیں دور کر کے لائی جاتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج کے کابینہ اجلاس میں آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر بات نہیں ہوئی ، حکومت کی کوشش ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ قانونی ایشوز پر قانون سازی کے آرڈیننس کو کیسے قانون میں منتقل کیا جاسکتا ہے اس کے لئے حکومت سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہے، اس حوالے سے اتفاق رائے اہم ہے پہلی ترجیحی پارلیمنٹ ہے اگر پارلیمانی کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اتفاق رائے یا فیصلہ نہیں ہورہا تو اس پر پھر کوئی اور آپشن استعمال ہوگا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رانا ثناءاللہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے اندر اے این ایف نے ثبوت دینے ہیں، 20کلوگرام ہیروئن رکھنے والامافیا بااثر بھی ہے اور وسائل کی کمی بھی نہیں ہے پہلے ججز نے معذرت کی اسکے بعد جب جج آگئے تو رانا ثناءاللہ کے وکلاءکا ہدف تھا کہ کیس کا ٹرائل شروع نہ ہو ، مختلف پیشیوں پر حیلے بہانے کرتے رہے ،ٹرائل شروع کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور گذشتہ سماعت پر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا دوسری تاریخ پر وکلاءکی ہڑتال تھی ۔

مزید خبریں