معاہدہ شکنی پر پرفارمنس گارنٹی کی ضبطگی قانونی ہے، صرف غیر معقول یا غیر متناسب ضبطگی میں عدالتی مداخلت ممکن ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پرفارمنس گارنٹی کی ضبطگی قانونی طور پر جائز ہو سکتی ہے جبکہ کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کی دفعہ 74 کے تحت عدالت صرف اسی صورت مداخلت کر سکتی ہے

اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پرفارمنس گارنٹی کی ضبطگی قانونی طور پر جائز ہو سکتی ہے جبکہ کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کی دفعہ 74 کے تحت عدالت صرف اسی صورت مداخلت کر سکتی ہے جب ضبط کی گئی رقم غیر معقول، غیر متناسب یا سزا کے مترادف ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ تجارتی معاہدوں میں فریقین کی طے شدہ شرائط اور خطرات کی تقسیم کا احترام کیا جانا چاہئے اور ہر معاملے میں پرفارمنس گارنٹی کی واپسی لازم نہیں۔چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بنچ نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) اور Abdullah Mezroei Metal Trading Company کے درمیان یوریا کی درآمد کے معاہدے سے متعلق اپیلوں کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ پرفارمنس گارنٹی کا مقصد معاہدے پر بروقت اور مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اگر کوئی فریق مقررہ مدت میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے یا معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرے تو پرفارمنس گارنٹی ضبط کی جا سکتی ہے تاہم عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ دیکھے آیا ضبط کی گئی رقم معقول ہے یا نہیں لیکن یہ اختیار اس بات کا جواز نہیں بنتا کہ ہر مقدمے میں معاہدے کی شرائط کو نظر انداز کر دیا جائے۔ فیصلے کے مطابق 18 اگست 2005 کو ٹی سی پی نے 50 ہزار میٹرک ٹن یوریا کی درآمد کے لئے ٹینڈر جاری کیا جس پر غیر ملکی کمپنی کی 225 امریکی ڈالر فی میٹرک ٹن کے حساب سے پیشکش قبول کی گئی۔ معاہدے کے تحت کمپنی نے تین فیصد مالیت کی پرفارمنس گارنٹی جمع کرانی تھی جبکہ ٹی سی پی نے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنا تھا۔ یوریا کی تینوں کھیپیں مقررہ مدت میں کراچی پہنچانا بھی معاہدے کا لازمی حصہ تھا اور وقت کو معاہدے کی بنیادی شرط قرار دیا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ اگرچہ ایل سی کو فعال بنانے میں ابتدائی مرحلے پر کچھ تاخیر ہوئی تاہم بعد میں ٹی سی پی نے ضروری ترامیم کیں اور کمپنی کو یوریا کی فراہمی کے لئے اضافی مہلت بھی دی۔ اس کے باوجود کمپنی توسیع شدہ مدت میں بھی ایک بھی کھیپ فراہم نہ کر سکی۔فیصلے کے مطابق کمپنی نے بعد ازاں عالمی مارکیٹ میں یوریا کی قیمتوں میں اضافے اور قلت کو سامان کی عدم فراہمی کی وجہ قرار دیتے ہوئے مزید تیس دن کی مہلت طلب کی، لیکن ٹی سی پی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے 2 جنوری 2006 کو لیٹر آف کریڈٹ منسوخ کر دیا اور پرفارمنس گارنٹی ضبط کر لی۔عدالت نے قرار دیا کہ معاہدے کی شقوں کے مطابق ٹی سی پی کو یہ واضح اختیار حاصل تھا کہ مقررہ مدت میں سامان فراہم نہ ہونے یا معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پرفارمنس گارنٹی ضبط کرے۔ مزید یہ کہ معاہدے میں یہ بھی درج تھا کہ اگر فروخت کنندہ کو اضافی مہلت دی جائے تو بھی ٹی سی پی کا یہ حق ختم نہیں ہوگا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مقدمے کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اپنی معاہداتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی، اس لئے پرفارمنس گارنٹی ضبط کرنے کے لئے درکار تمام شرائط پوری ہو چکی تھیں۔ عدالت نے یہ بھی آبزرویشن دی کہ ثالث اور ماتحت عدالتوں نے بعض شواہد اور معاہدے کی متعلقہ شقوں کا درست قانونی تناظر میں جائزہ نہیں لیاجس کے باعث قانون کے اطلاق میں غلطی ہوئی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اصول پر بھی زور دیا کہ بڑے تجارتی معاہدوں میں عدالتوں کو فریقین کی آزادانہ طے شدہ شرائط کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ تجارتی معاملات میں یقینی صورتحال اور معاہدوں پر عمل درآمد کاروباری اعتماد کی بنیاد ہوتے ہیں۔