معیشت کے استحکام کے لئے برآمدات کی رفتار درآمدات سے زیادہ ہونی چاہئے، ہارون اختر خان

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ اقتصادی نمو کو تیز کرنا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان بزنس کونسل کے ڈائیلاگ آن اکانومی سیشن میں شرکت کی اور ملک کی اقتصادی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔انہوں نے زور دیا کہ بیرونی سرمایہ کاری کی تلاش سے پہلے پاکستان کو اپنے ملک میں سرمایہ …

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ اقتصادی نمو کو تیز کرنا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان بزنس کونسل کے ڈائیلاگ آن اکانومی سیشن میں شرکت کی اور ملک کی اقتصادی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔انہوں نے زور دیا کہ بیرونی سرمایہ کاری کی تلاش سے پہلے پاکستان کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔ تیز رفتار معاشی ترقی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتصادی نمو کو تیز کرنا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ بغیر صنعتی ترقی کے کوئی ملک خوشحال نہیں ہو سکتا اور صنعت معیشت کی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ برآمدات کی رفتار درآمدات سے زیادہ ہونی چاہئے، ورنہ تجارتی خسارہ بڑھتا رہے گا اور معیشت پر دباؤ پڑتا ہے۔ برآمدات کو فروغ دینے کے لئے انہوں نے مینوفیکچرنگ اور مقامی پیداوار کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سٹیل جیسی بنیادی اشیاء کی ملکی سطح پر تیاری برآمدات کے فروغ کے لئے ناگزیر ہے۔

انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات کے نفاذ میں بہترین کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی صلاحیتوں اور قومی قوت سے ترقی کر سکتا ہے۔ ہارون اختر خان نے مزید بتایا کہ آنے والی صنعتی پالیسی کے تحت ٹیکس پیکیج آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ آئندہ اصلاحی اقدامات طویل مدتی اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لئے ہیں۔