اسلام آباد ۔ 29 دسمبر (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کا بحران الارمنگ صورت اختیار کر چکا ہے جس سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی برادری کو ہنگامی اقدامات کرنا ہونگے۔ اسلام آباد میں میڈیکس انٹرنیشنل کے زیر اہتمام بین الاقوامی طبی کانفرنس کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے …
مقبوضہ جموں وکشمیر میں ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کا بحران الارمنگ صورت اختیار کر چکا، صدر سردار مسعود خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 دسمبر (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کا بحران الارمنگ صورت اختیار کر چکا ہے جس سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی برادری کو ہنگامی اقدامات کرنا ہونگے۔ اسلام آباد میں میڈیکس انٹرنیشنل کے زیر اہتمام بین الاقوامی طبی کانفرنس کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی قبضہ، قابض فوج کے مظالم، کرفیو اور مختلف النوع پابندیوں کے باعث صحت کی ناکافی سہولتوں کی وجہ سے ہیلتھ ایمرجنسی کی صورت پیدا ہو چکی ہے جو فوری بین الاقوامی مداخلت کا تقاضا کرتی ہے۔ یونیورسٹی آف کشمیر سرینگر کے تعاون سے تیار کی گئی ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں 18لاکھ سے زیادہ بالغ مرد اور خواتین ذہنی دبائو، اضطراب، ڈپریشن، ذہنی و جذباتی صدمہ جیسے عوارض کا شکار ہیں اور ان امراض سے دوچار 18لاکھ افراد مقبوضہ ریاست کے بالغ افراد کی 45 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور تحقیقی مطالعہ میں بتایا گیا ہے کہ 11سے 15سال کی عمر کے بچوں کی ایک بڑی تعداد اپنی آنکھوں کے سامنے اموات، جنسی تشدد، جسمانی تشدد اور جائیداد کی تباہی و بربادی کو دیکھنے کے بعد پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کا شکار ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارتی قابض فوج نے اس سال 5اگست کے بعد پوری ریاست کی انسانی آبادی کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ اس دوران 13ہزار نوجوانوں کو گرفتار کر کے بھارت کے مختلف بدنام جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ بھارتی مظالم کے خلاف مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کو نشانہ لے کر مارا جا رہا ہے، انہیں زخمی اور معذور کیا جا رہا اور خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کرہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں اب تک جتنے نوجوانوں کو آنکھوں کی بصارت سے محروم کیا گیا اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ معتبر اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 1200شہریوں کو بصارت سے محروم کیا گیا اور 6سے 7ہزار شہریوں کو چھرے دار بندوقوں سے نشانہ بنا کر زخمی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کی غالب اکثریت اپنی تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزر رہی ہے اور انہیںجن سنگین مصائب و مشکلات کا سامنا ہے اس کی مثال خود کشمیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد ناموافق حالات کے باعث ذہنی صدمہ یا ٹرامہ سے دوچار ہو کر مختلف ذہنی و نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہے اور تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کئی شہری شیزو فرینیا، بائی پولر ڈس آرڈر، خوف، افسردگی اور ذہنیاضطراب کا شکار ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں طبی مراکز قبرستانوں کا منظر پیش کر رہے ہیں جہاں عوام کو صحت کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کی 2018ء کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں شہریوں کے معاشی، سماجی، ثقافتی حقوق اور اقوام متحدہ کے طاقت کے استعمال اوراسلحہسے متعلق اصولوں اور عہد ناموں کو پامال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی قابض فوج ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف، ایمبولینس ڈرائیوروں پر بھی حملے کرتی ہے اور کئی واقعات میں ایمبولینسوں کو نقصان پہنچایا گیا، ایمبولینسوں کی آزادانہ نقل و حمل کو محدود کیا گیا اور گرفتاری کے خوف سے کئی بار مریض ہسپتالوں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ اور غیر انسانی سلوک کے واقعات مقبوضہ کشمیر تک ہی محدود نہیں بلکہ بھارتی حکمران آزادکشمیر پر حملہ کرنے اور پاکستان کی سلامتی کونقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ بھارت کیفاشٹ حکمران جماعت بی جے پی نے بھارتی مسلمانوں کی زندگی بھی اجیرن کر دی ہے اور اس طرح بھارت نے ایک تہذیبی جنگ کا آغاز کر دیا ہے جس سے اسے روکنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد عالمی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر کی اصل تصویر دنیا کو دکھانا شروع کر دی ہے اور کشمیر کے بارے میں بھارت کے جھوٹے بیانیہ کو بے نقاب کر کے اس کے اس دعویٰ کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ مقبوضہ ریاست میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔








