تمغہِ امتیاز حاصل کرنے والے پاکستان کے نامور لانگ رینج سپورٹس شوٹر اور سپورٹس سائیکالوجسٹ محسن نواز نے وفاقی دارالحکومت کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تاریخی ’’ پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026‘‘ میں شرکت کی۔
کھیلوں کے لیے سپورٹس مینٹل ہیلتھ پالیسی قائم کی جائے، محسن نواز

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):تمغہِ امتیاز حاصل کرنے والے پاکستان کے نامور لانگ رینج سپورٹس شوٹر اور سپورٹس سائیکالوجسٹ محسن نواز نے وفاقی دارالحکومت کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تاریخی ’’ پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026‘‘ میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے وزارتِ قومی صحت کی جانب سے پہلی جامع "قومی مینٹل ہیلتھ پالیسی” کے قیام کو سراہا اور ساتھ ہی کھیلوں کے شعبے کے لیے ایک بالخصوص "سپورٹس مینٹل ہیلتھ پالیسی” تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔اس دو روزہ عالمی کانفرنس کا مرکزی موضوع "بچوں، نوجوانوں اور کمیونٹیز کے لیے ماحولیاتی لچک پر مبنی اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل” تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نواز نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی کا حقیقی فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب اسے ملک کے تمام شعبوں بالخصوص کھیلوں اور نوجوان ا تھلیٹس کی سطح پر فعال انداز میں نافذ کیا جائے۔کھیلوں کی قومی ترقی میں سپورٹس سائیکالوجی کو شامل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے محسن نواز نے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی مثال پیش کی جو اپنی تمام تر عالمی سطح کی صلاحیتوں کے باوجود جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز میں چوتھے نمبر پر رہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی مقابلے کے شدید دباؤ کے دوران باقاعدہ اور مسلسل نفسیاتی تیاری کا نہ ہونا ہی بین الاقوامی سطح پر اتھلیٹس کی کارکردگی میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔ محسن نواز نے کہا کہ پاکستان میں اتھلیٹس کے لیے ذہنی صحت کی کوئی سہولیات میسر نہیں ، سلیکشن کی غیر یقینی پالیسیاں اور ٹریننگ کیمپ کا ماحول اکثر کھلاڑیوں میں شدید نفسیاتی تناؤ پیدا کرتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ جب کوئی معروف کرکٹر یا اولمپئن کھلے عام ذہنی صحت پر بات کرتا ہے تو اس سے پورے ملک کے 24 کروڑ عوام میں اس موضوع پر موجود ہچکچاہٹ اور منفی تاثر کا خاتمہ ہوتا ہے۔6 ویں ‘ورلڈ نوميڈ گیمز 2026’ میں پاکستان کے پہلے آفیشل سپورٹس سائیکالوجسٹ کے طور پر خدمات انجام دینے والے اور عالمی برانڈزکے سفیر محسن نواز نے تمام سپورٹس فیڈریشنز اور پالیسی سازوں سے اپیل کی کہ وہ ‘گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ’ کے اس اہم موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھیلوں کے لیے مستقل اور منظم نفسیاتی روڈ میپ تیار کریں تاکہ پاکستانی کھلاڑی عالمی میدانوں میں مسلسل فتوحات حاصل کر سکیں۔







