سرینگر ۔ 10 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوںکے لوگوںکو بدستور شدید مشکلات کا سامنا ہے جہاں 5اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے دفعہ 370اور35Aکی منسوخی اور جموںوکشمیر کو دو یونین علاقوں میں تقسیم کئے جانے کے خلاف اتوار کو مسلسل 98ویں روز بھی نظام زندگی مفلوج رہا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں …
مقبوضہ کشمیر میں 98ویں روز بھی نظام زندگی مسلسل مفلو ج

مزید خبریں
سرینگر ۔ 10 نومبر (اے پی پی) مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں خطے کے مسلم اکثریتی علاقوںکے لوگوںکو بدستور شدید مشکلات کا سامنا ہے جہاں 5اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے دفعہ 370اور35Aکی منسوخی اور جموںوکشمیر کو دو یونین علاقوں میں تقسیم کئے جانے کے خلاف اتوار کو مسلسل 98ویں روز بھی نظام زندگی مفلوج رہا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد ہیں۔سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے تمام دروازے آج عید میلاد النبی ۖکے موقع پربھی عقیدت مندوں کیلئے بند ہیں۔ مسجد سے ملحقہ جامع مارکیٹ کو بھی بڑی تعداد میںسی آر پی ایف اہلکاروںکو تعینات کر کے بند کردیا گیا ہے۔ پری پیڈموبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز5 اگست سے مسلسل معطل ہیں۔ سری نگر میں صحافیوںکی سہولت کیلئے قائم کئے گئے سینٹر میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔دریں اثنا ء ایودھیا میں میں بابری مسجد کیس سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میںجموںکے کشتواڑ قصبے میں کرفیو نافذ کردیاگیا ہے جبکہ دیگر ملحقہ علاقوں اور نو دیگر اضلاع میں سیکورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ جموں شہر میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پرمعطل ہے۔گارڈین کی اطلاعات کے مطابق برسلز ، بیلجیئم میں قائم یورپین اکنامک اینڈ سوشل کمیٹی اور نئی دلی میں برطانوی ہائی کمیشن نے کہاہے کہ وہ منتخب یورپی اراکان پارلیمنٹ کے مقبوضہ کشمیر کے حالیہ دورے میں میں کسی بھی طرح شامل نہیں تھے۔ گارڈین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کمیٹی کے پریس آفیسر ڈیوڈ گیپینی نے کہا کہ یورپین اکنامک اینڈ سوشل کمیٹی کو اس دورے کا علم نہیں تھا اور نہ ہی انہوںنے اس سلسلے میں کوئی فنڈز فراہم کئے ہیں۔








