اسلام آباد۔ 16 اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ انتقال کے اندراج سے بذاتِ خود ملکیت نہ پیدا ہوتی ہے اور نہ ختم ہوتی ہے بلکہ انتقال بنیادی طور پر ریونیو اور مالیاتی مقاصد کے لیے ہوتا ہے، ملکیت کی منتقلی ثابت کرنے کے لیے بنیادی لین دین کا قابلِ اعتماد ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔عدالت نے زرعی اراضی کی ملکیت سے متعلق سول اپیل نمبر …
ملکیت کا دعویٰ صرف ریونیو اندراج سے ثابت نہیں ہوتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 16 اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ انتقال کے اندراج سے بذاتِ خود ملکیت نہ پیدا ہوتی ہے اور نہ ختم ہوتی ہے بلکہ انتقال بنیادی طور پر ریونیو اور مالیاتی مقاصد کے لیے ہوتا ہے، ملکیت کی منتقلی ثابت کرنے کے لیے بنیادی لین دین کا قابلِ اعتماد ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔عدالت نے زرعی اراضی کی ملکیت سے متعلق سول اپیل نمبر 19-P آف 2015 خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ میں قرار دیا کہ صرف پرانی فروخت کی دستاویز اور ریونیو ریکارڈ میں اندراج کسی شخص کے حق میں ملکیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، خصوصاً جب بنیادی فروخت ہی قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت نہ ہوسکے۔فیصلے کے مطابق مبینہ فروخت نامے میں اراضی کی قیمت 90 روپے جبکہ متعلقہ انتقال میں 100 روپے درج تھی، جس کا کوئی تسلی بخش جواز پیش نہیں کیا گیا۔
مزید برآں فروخت نامے میں اراضی کے خسرا نمبرز بھی درج نہیں تھے بلکہ صرف حدود بیان کی گئی تھیں۔عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ 30 سال سے زائد پرانی دستاویز کے حوالے سے قانون کے تحت بعض قرائن موجود ہوسکتے ہیں، تاہم ایسا قرینہ حتمی نہیں ہوتا اور حالات و شواہد کی روشنی میں بنیادی لین دین کو ثابت کرنا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فروخت نامے پر موجود گواہوں کے دستخط یا انگوٹھے کے نشانات کی باقاعدہ شناخت نہیں کرائی گئی اور کسی گواہ کو پیش کرکے دستاویز کی تصدیق نہیں کی گئی۔فیصلے میں کہا گیا کہ ریونیو ریکارڈ بھی اپیل کنندگان کے موقف کی حمایت نہیں کرتا۔ ان کے پیشرو کا نام ملکیت کی بجائے کاشت کے خانے میں درج تھا جبکہ مدعی کے پیشرو کا نام مسلسل مالک کے طور پر درج ہوتا رہا۔عدالت نے قرار دیا کہ مدعی کی جانب سے بعد ازاں مذکورہ اراضی کو زرعی ترقیاتی بینک کے پاس رہن رکھنا اور رہن واپس حاصل کرنا بھی اس امر کی تائید کرتا ہے کہ مبینہ فروخت کے دعوے کے باوجود اصل ملکیتی ریکارڈ مدعی کے پیشرو کے نام موجود رہا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ انتقال نمبر 63 کے حوالے سے بھی مکمل سرکاری ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔ صرف ’’پرت پٹوار‘‘ پیش کی گئی جبکہ ’’پرت سرکار‘‘ پیش نہ کی گئی، جس پر عدالت نے منفی قرینہ اخذ کیا۔عدالت نے انتقال کے کالم نمبر 13 میں درج ’’فروختِ خریف فصل‘‘ کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اندراج ملکیتی حقوق کی منتقلی کی بجائے فصل یا کاشت کے حقوق کی فروخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فروخت نامے اور انتقال میں قیمت کا تضاد، خسرا نمبرز کی عدم موجودگی، دستاویز کی مناسب تصدیق نہ ہونا، ملکیتی ریکارڈ میں اصل مالکان کے ناموں کا برقرار رہنا اور دیگر شواہد مجموعی طور پر ملکیت کی منتقلی ثابت نہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں کوئی ایسی قانونی یا شواہد سے متعلق خامی موجود نہیں جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ مداخلت کرے۔سپریم کورٹ نے سول اپیل خارج کردی تاہم اخراجات کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔







